ابنا: خبروں کے مطابق لويہ جرگہ ميں حصہ لينے والوں نے ، چہہتر شقوں کي ايک قرارداد جاري کرکے امريکہ اور افغانستان کے درميان اسٹريٹجيک تعاون کي مشروط طور پر حمايت کا اعلان کيا ہے - لويہ جرگہ نے کابل واشنگٹن اسٹريٹجيک معاہدے کي مشروط حمايت کا اعلان ايسي صورت ميں کيا ہے کہ جب بہت سے لوگ اور ماہرين لويہ جرگہ کو غير قانوني قرار دے رہے ہيں در ايں اثنا افغانستان کے ذرائع کے مطابق ، لويہ جرگہ جو شرطيں پيش کي ہيں وہ ان شرائط سے ملتي جلتي ہيں جو افغان صدر حامد کرزئي نے لويہ جرگہ ميں اپني افتتاحيہ تقرير ميں پيش کي تھيں -
امريکي چھاونيوں کي سرحدي اور شہر سے باہري علاقوں ميں تعمير ، رات کو کئے جانے والے آپريشنوں کو بند کيا جانا ، غير ملکي فوجيوں کي کسي بھي قسم کا قانوني استثني حاصل نہ ہونا ، غير ملکي فوجيوں اور حکومت کے درميان ہم آہنگي ، اسٹريٹجيک معاہدے کي مدت کا تعين اور افغانستان ميں امريکا کي موجودگي کے وقتي ہونے پر زور ، لويہ جرگہ کے شرکاء کي جانب سے پيش کي جانے والي شرطيں ہيں - لويہ جرگہ کے شرکاء نے اسي طرح کابل واشنگٹن اسٹريٹجيک معاہدے کے لئے افغانستان ميں امريکي جيلوں کو بند کئے جانے ، ماضي ميں ہونے والے معاہدوں کا خاتمہ اور اسي طرح غير ملکي حملے کي صورت ميں افغانستان کے دفاع کے لئے امريکہ کي پابندي جيسے شرطوں کا ذکر کيا گيا ہے -
قرارداد ميں اسي طرح طالبان کے ساتھ صلح پر زور ديا گيا ہے اور کہا گيا ہے کہ افغان حکومت ان لوگوں سے گفتگو کرے جنہوں نے افغانستان کے آئين کو قبول کيا ہو - قرارداد ميں کہا گيا ہے کہ حکومت کو دوست اور دشمن کي واضح تفسير پيش کرنا چاہئے اور پاکستان کو بھي کابل کے سلسلے ميں اپني پاليسيوں کو بدلنا چاہئے - قرارداد پڑھے جانے کے بعد افغان صدر حامد کرزئي نے کہا کہ يہ قرارداد ، حکومت کي راہنمائي کرے گي - لويہ جرگہ کا چہار روزہ اجلاس ايسي صورت ميں ختم ہوا ہے کہ جب اجلاس کے دوسرے دن ، شرکاء نے ،مجوزہ کابل واشنگٹن معاہدے کا پورا مسودہ پيش نہ کرنے کي وجہ سے حکومت پر تنقيد کي تھي.
.......
/169