18 نومبر 2011 - 20:30

یہ کیسا قانون ہے جہاں دندناتے ہوئے دہشتگرد آزاد ہوجاتے ہے۔ انسان دشمن فرقہ پرست مولویوں کو مکمل محفوظ پناہ گاہ فراہم کی جاتی ہے اور تو اور کفر کے فتوے لگانے والے فسادیوں کو باعزت بری کردیا جاتا ہے مگر وہ مظلوم قوم جو پاکستان بننے کے بعد سے لے کر اب تک جنازوں پے جنازے اُٹھا رہی ہے نسل در نسل مُسلح دہشتگردوں کی دہشتگردی کا شکار ہے افسوس کے اکیسویں صدی کے اس دور میں اُس قوم کا کوئی ہمدرد نہیں ۔

ابنا: مندرجہ بالا الفاظ کوئی جذباتی کلمات نہیں اور نہ ہی یہ سمجھا جائے کہ یہ کسی لاچار کی آواز ہے۔یہ سچ ہے جو بے ساختہ ایک مظلوم کی زبان سے نکلا ہے۔ کل پورا دن کراچی سے شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری کی خبریں موصول ہوتی رہی ۔متعصب سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے عجیب عجیب سازشوں کے زریعے تعلیم یافتہ شیعہ نوجوانوں کو دہشتگرد قرار دینے کی ناکام کوشش ہوتی رہی۔ آخر کار متعصب اہلکاروں نے شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری ظاہر کردی ۔

مگر افسوس ہے کہ اگلے ہی روز کالعدم ملک دشمن،فرقہ پرست جماعت سپاہ صحابہ کے 6دہشتگردوں کو نام نہاد دجال نما انسان کی عدلیہ نے آزاد کردیاجن میں سپاہ صحابہ(یزید) کا دہشتگرد مُعین ،شکیل،وسیم جیسے خطرناک دہشتگرد بھی شامل ہے۔یہ تمام دہشتگرد پولیس مقابلے میں گرفتار ہوئے تھے مگر افسوس کے دجال نما انسان کی عدلیہ کو یہ نظر نہیں آتا۔

کیا یہی انصاف ہے جہاں قاتل تو آزاد ہوں مگر مقتول گرفتار ہوں۔ یہ اندھا قانون جس کو صرف اپنے مطلب کی چیزیں نظر آتی کب انصاف کرے گا؟اس ملک پاکستان کو ہزاروں ڈاکٹر ، سیاستدان، بینکرز، میڈیا پرسن، انجینیر دینے والی قوم کیوں مظلوم ہے؟........

/169