ابنا: ايہود باراک نے امريکا کے پي بي ايس ٹي وي چينل سے گفتگو کرتے ہوئے ايران پر ايٹمي ہتھيار رکھنے کا الزام لگانے کے دوران اس بات کو تسليم کر ليا کہ اسرائيل کے پاس ايٹمي ہتھيار ہيں- انہوں نے اس کے بعد ايران پر عالمي برادري کو دھوکہ دينے کا الزام لگانے کي کوشش کي اور دعوي کيا کہ جوہري توانائي کي عالمي ايجنسي کےسابق سربراہ محمد البرادعي، ايران کے ساتھ تعاون کرتے تھے اور انہوں نے ايران کے ايٹمي پروگرام سے متعلق معلومات چھپائي تھيں-
اسرائيلي وزير جنگ نے اسي طرح ہندوستان، پاکستان، چين اور مغرب کے پاس ايٹمي ہتھيار موجود ہونے کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چار ہزار سالہ تہذيب و تمدن کے مالک ايراني بھي اب ايٹمي ہتھيار حاصل کرنے کي کوشش کر رہے ہيں-
انہوں نے کہا کہ ايٹمي ہتھيار رکھنا اسرائيل کا فطري اختيار ہے اور صدام، قذافي اور بشار اسد نے بھي ايٹمي ہتھيار بنانے کي کوشش کي ہے .
.....
/169