ابنا: صدر آصف زرداری سے ایم کیو ایم کے وفد نے ملاقات کی اور الطاف حسین کے خلاف بیان دینے پر ذوالفقار مرزا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ صدر کی طرف سے کارروائی کی یقین دہانی پر ایم کیو ایم کا جنرل ورکرز کا ہنگامی اجلاس ملتوی کر دیا گیا، اجلاس سے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے خطاب کرنا تھا۔ اسلام آباد میں صدر آصف زرداری سے ایم کیو ایم کے رہنماؤں حیدر عباس رضوی، فاروق ستار اور بابر غوری نے ملاقات کی۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے وزراء خورشید شاہ اور نوید قمر بھی موجود تھے۔ ایم کیو ایم کے ارکان نے کہا کہ صدر کے خلاف کوئی لب کشائی کرتا ہے تو ایم کیو ایم کے کارکن سڑکوں پر نکل آتے ہیں لیکن ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف بات کرنے والوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کے دوران صدر آصف زرداری نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو ٹیلی فون بھی کیا۔ صدر نے انھیں یقین دلایا کہ پارٹی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ صدر کی طرف سے کارروائی کی یقین دہانی پر کراچی میں ہونے والا ایم کیو ایم کا جنرل ورکرز کا ہنگامی اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ اجلاس سے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے خطاب کرنا تھا۔
دیگر ذرائع کے مطابق صدر زرداری کی جانب سے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی پر ایم کیو ایم کی نیوز کانفرنس اور الطاف حسین کا خطاب ملتوی کر دی گئی۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی سربراہی میں تین رکنی وفد نے آج صدر زرداری سے ملاقات کی۔ صدر مملکت سے متحدہ قومی موومنٹ کے وفد نے ملاقات میں ذوالفقار مرزا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بابر غوری کہتے ہیں صدر نے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ملاقات میں ایم کیو ایم کے وفد نے کراچی ایئرپورٹ پر ذوالفقار مرزا کو سرکاری پروٹوکول دینے، شرجیل میمن اور پیپلزپارٹی کے دیگر رہنماؤں کی موجودگی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ بابر غوری کا کہنا تھا ان کی جماعت حکومت کی حریف نہیں حلیف جماعت ہے۔ ملاقات میں ایم کیو ایم کے وفد نے شرجیل میمن کی ذوالفقار مرزا کے ساتھ لندن روانگی کا معاملہ اٹھایا۔ ایم کیو ایم کے وفد نے وزیراعظم کی جانب سے ذوالفقار مرزا کو خاندان کا حصہ قرار دینے پر تنقید کی۔ بابر غوری کا کہنا تھا صدر نے ان کے تحفظات دور کرنیکی یقین دہانی کرا دی ہے۔
...........
/169