16 نومبر 2011 - 20:30

امريکي صدر نے ايک بار پھر کہا ہے کہ ان کا ملک اقتصادي اور مالياتي بحران کے باوجود ايشيا اور بحرالکاہل کے علاقے سے اپنے فوجيوں کو واپس نہيں بلائے گا-

ابنا: جمعرات کے روز آسٹريلوي پارليمان سے خطاب کرتے ہوئے باراک اوباما نے ايشيا اوربحرالکاہل کے علاقے ميں امريکہ کي فوجي موجودگي کو ضروري قرار ديا- انہوں نے شمالي آسٹريليا ميں ڈھائي ہزار امريکي فوجيوں کي تعيناتي پرہونے والي تنقيد کے بارے ميں کہا کہ امريکہ اقتصادي اور مالياتي بحران اور معاشي کفايت شعاري کي پاليسيوں پر عملدرآمد کے باجود اس علاقے ميں اپني فوجي موجودگي کو ضروري سمجھتا ہے-

امريکي صدر کا يہ بيان ايسے وقت ميں سامنے آيا ہے جب چين نے امريکہ اور آسٹريليا کے درميان فوجي تعاون پر تشويش ظاہر کي ہے- چيني وزارت خارجہ کے ترجمان لوئي ويم ينگ نے بيروني ملکوں سے اپيل کي ہے  کہ وہ بحيرہ چين کے علاقے ميں، جو ان سے تعلق نہيں رکھتے مداخلت سے گريز کريں کيونکہ انکي مداخلت سے حالات ميں سدھار آنے کے بحائے صورتحال مزيد پيچيدہ ہوجائے گي- آسٹريليوي عوام کي مخالفت کے باجود امريکہ نے اس ملک ميں اپنا فوجي اڈہ قائم کرليا ہے- امريکي صدر باراک اوباما اور آسٹريلوي وزير اعظم جوليا گلارڈ کے درميان ہونے والے اتفاق رائے کے مطابق شمالي آسٹريليا کے علاقے ڈارون ميں قائم امريکي فوجي اڈہ دائمي ہوگا-...........

/169