ابنا:خالدمشعل نے نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس سے جلد ہی ہونے والی اپنی ملاقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی آشتی معاہدے پر عمل درآمد اس ملاقات کےایجنڈے میں شامل ہوگا۔خالدمشعل نےابومازن محمود عباس سے اپنی عنقریب ہونے والی ملاقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقاتیں قومی اتحاد کو مضبوط بنانے اور فلسطینی گروہوں کے درمیان اختلافات کو دور کرنے کے لئے علاقے اور فلسطین کی تاریخ کے اس موڑ پر بہت اہم ہیں۔تحریک حماس کے رہنما نےعلاقے اور عالم اسلام کی تبدیلیوں کو مسئلہ فلسطین کے مفاد میں قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام جنہوں نے طویل برسوں تک استقامت کی ہے، حالیہ تبدیلیاں ان کے مقاصد پورے ہونے ميں مددگار ثابت ہوں گی۔دوسری جانب تحریک حماس نے انروا پر تاریخ فلسطین میں تحریف کا الزام لگایا ہے۔پناہ گزینوں کےامور میں تحریک حماس کے سربراہ یاسر عزام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انروا نےفلسطینی اسکولوں کےنصاب سےفلسطینی جغرافیہ اورتاریخ کے دروس کونکال دیا ہے ۔عزام نےمزید کہا کہ فلسطینی طلبہ کے دروس سے تاریخ و جغرافیہ کوحذف کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ انروا صہیونی ریاست کی خدمت کے لئے فلسطین کی تاریخ میں تحریف کرناچاہتی تاکہ نئی نسل کو اپنی سرزمین کی تاریخ کا علم ہی نہ ہو۔..............
/169