ابنا:شیعہ علماء کونسل کے مرکزی ترجمان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ریٹائرڈ جسٹس زوار حسین جعفری اور ان کے دوست زین العابدین پر نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے گھر سے جاتے وقت دہشتگردوں کے حملے کے نتیجے میں زین العابدین کی شہادت اور جسٹس (ر) زوار حسین جعفری کے زخمی ہونے اور اسی دوران عوام کی مدد سے پولیس کی جانب سے تین حملہ آوروں میں سے دو کے گرفتار کئے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کا یہ افسوسناک سانحہ حکومت، ریاست اور امن کے ضامن اداروں کے لئے ٹیسٹ کیس کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ دو حملہ آوروں کی گرفتاری سے نہ صرف حقیقی دہشتگردوں بلکہ ان کے سرغنوں اور سرپرستوں کا بھی پتہ لگانا مشکل نہیں رہا۔ اپنے مذمتی بیان میں ترجمان نے مزید کہا کہ تسلسل کے ساتھ دہشتگردی، قتل و غارت گری اور ٹارگٹ کلنگ کا دوبارہ سے جاری سلسلہ کسی خاص پلاننگ کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس میں بعض مبہم سرکاری مراسلوں کا بھی اہم رول ہے۔ اس نازک صورتحال میں ایسے افسوسناک واقعات کے تدارک کے لئے نہایت ضروری ہے کہ ان واقعات کی تہہ میں چھپی سازش اور پلاننگ کو بے نقاب کرکے مکمل تحقیقات کے ذریعے حقائق منظر عام پر لائے جائیں اور عوام کو اصل صورتحال سے مکمل آگاہ کیا جائے، کیونکہ خدشہ ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو صورتحال مزید خراب ہونے کا احتمال ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ تفصیلات کے مطابق جسٹس (ر) زوار حسین جعفری اور ان کے دوست زین العابدین پر گرے رنگ کی سوزوکی کلٹس میں سوار تین دہشتگردوں نے اس وقت فائرنگ کی، جب وہ نماز جمعہ پڑھنے کے لئے اپنے گھر سے نکلے ہی تھے۔
...............
/169