2 نومبر 2011 - 20:30

يونان کے وزير اعظم جارج پاپاندرئو کے ذريعے يورو زون ميں يونان کے باقي رہنے کے بارے ميں ريفرنڈم کرانے کے اعلان پر يورپ ميں مختلف ردعمل سامنے آرہے ہيں -

ابنا: يونان کے وزير اعظم نے اعلان کيا ہے کہ ريفرنڈم چار دسمبر کو کرايا جائے گا جس ميں اس بات کو پوچھا جائے گا کہ يونان يورو زون ميں باقي رہے يا نہيں ؟ جارج پاپاندرئو کو فرانس کے شہر کينز ميں گروپ بيس کے اجلاس کے موقع پر ريفرنڈم کرانے کے اپنے اس اچانک فيصلے کي وضاحت دينے کے لئے بلايا گيا ہے -يونان کے وزير اعظم نے کہا ہے کہ يورو زون ميں بنے رہنے کے لئے ہميں وسيع پيمانے پر اتفاق رائے کي ضرورت ہے اوريونان کے عوام چاہتے ہيں کہ ہم يورو زون کے ايک اہم ممبرکي حيثيت سے باقي رہيں -

يوناني وزير اعظم نے يہ بيان فرانس کے صدر سرکوزي اور جرمن چانسلر انجيلا مرکل کي ملاقات کے بعد ديا ہے - ان حالات ميں فرانس جرمني اور برطانيہ کے سربراہان مملکت نے يونان سے کہا ہے کہ وہ اپنے وعدے پر عمل کرے - فرانس اور جرمني کے سربراہان مملکت نے خبردار کيا ہے کہ يونان کو آٹھ ارب يورو قرضے کي قسط کي ادائيگي ريفرنڈم کے بعد تک کے لئے موخر کردي جائے گي-

بين الاقوامي مالياتي فنڈ کے ڈائريکٹر جنرل کريسچين لاگارڈ نے بھي اعلان کيا ہے کہ اس فنڈ کي طرف سے يونان کو کسي بھي طرح کي مدد کا انحصار ريفرنڈم کے نتيجے پر ہوگا جو يورو زون ميں باقي رہنے يا نہ رہنے کے بارے ميں ہونے جارہا ہے -

يہاں يہ بات قابل ذکرہے کہ بريسلزميں يورپي يونين کے حاليہ سربراہي اجلاس ميں يونان کے آدھے قرضے معاف کرديئے جانے پر اتفاق ہوگيا تھا - اس اتفاق رائے کے مطابق يورپ يونان کو مزيد ايک ارب يورو قرض دے گا اور بينک بھي اس ملک کے پچاس فيصد قرضے معاف کرديں گے ليکن اس کے عوض يوناني حکومت اپنے بجٹ ميں بڑے پيمانے پر کفايت شعاري کي پاليسي پر عمل کرے گي - البتہ کفايت شعاري کي اس پاليسي پرعمل درآمد سے يوناني عوام پر بوجھ پڑے گا جس کي يوناني عوام مخالفت کرتے چلے آرہے ہيں -............

/169