ابنا: مصر کے عوام کو ملک میں فوجی کونسل کی حکمرانی کی مدت کے طویل ہونے پر شدید اعتراض ہے ۔ اسی لۓ انہوں نے اٹھائیس اکتوبر کو جمعے کے دن مظاہرہ کرکے ایک بار پھر اقتدار عوامی اور منتخب حکومت کی تحویل میں دیۓ جانے پر زور دیا۔ مصر کے ہزاروں باشندوں نے آزادی اسکوائر میں جمع ہو کر اس ملک کی حکمران کونسل کے خلاف نعرے لگاۓ ۔ اس جلوس میں فوجی کونسل کے اراکین سے کہا کہ وہ ان مطالبات کو پورا کرے جن کے لۓ انقلابی تحریک شروع کی گئي تھی۔ جمعے کے دن مصری عوام کے مظاہرے میں انقلابی جماعتوں کے حامیوں نے بھر پور شرکت کی ۔ اور چھ اپریل ، انقلابی جوانوں کے اتحاد کے علاوہ الکفایہ تحریک نے بھی عوامی مظاہروں میں شریک ہوکر عوام کے مطالبات تسلیم کۓ جانے کے سلسلے میں عبوری حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ مظاہرین نے متحدہ قومی حکومت کی تشکیل ، آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کا راستہ ہموار کۓ جانے اور سابقہ حکومت کے عہدیداروں کی برطرفی اور ان پر مقدمہ چلاۓ جانے کا مطالبہ کیا۔ مصر کی سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر حملہ کیا جس کے بعد سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ شروع ہوگئی۔ لیکن اس کے باوجود مظاہرین نے قاہرہ میں واقع امریکی سفارت خانے کی جانب مارچ کیا۔ مصر کے عوام کا کہنا ہے کہ امریکہ جو کبھی اس ملک کو مشرق وسطی میں اپنا حلیف جانتا تھا اب وہ اس ملک کے انقلاب کو ہائی جیک کرنے کے درپے ہے۔ مصر میں نومبر کے مہینے کے اواخر میں انتخابات کا انعقاد عمل میں آنے والا ہے اور مصر کے عوام کو یہ تشویش لاحق ہے کہ امریکہ ان انتخابات میں مداخلت کرے گا یہی وجہ ہے کہ جمعے کے دن کے مظاہرے میں اگرچہ مصر کے عوام نے فوجی کونسل کو ہدف تنقید بنایا لیکن اس مظاہرے میں جو نعرے لگاۓ گۓ ان سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ان کو اپنے انقلاب کے سلسلے میں امریکی سازش کے بارے میں تشویش لاحق ہے۔ مصر کے عوام نے جمعے کے دن اسلامی اقدار اور اصولوں کی بنیاد پر منتخب اور عوامی حکومت کی تشکیل کا پر زور مطالبہ کیا۔ اس وقت یہ تشویش پائی جاتی ہےکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مصری عوام کا انقلاب مصر کے بعض حکام اور سابقہ حکومت کے عہدیداروں اور یورپ کی باہمی سازباز کی بھینٹ چڑھ جاۓ۔ اوریہ تشویش بے جواز بھی نہیں ہے کیونکہ جس دن مصر کے لوگوں نے قاہرہ میں آزادی اسکوائر میں جمع ہو کر مظاہرہ کیا اور اس دن کو جمعۂ انقلاب کا نام دیا اسی دن قاہرہ میں ایک دوسرے گروہ نے مصطفی محمود اسکوائر میں اکٹھے ہو کر حکمران فوجی کونسل کے حق میں نعرے لگاۓ۔ ایک ہی دن میں ہونے والے ان دو مختلف مظاہروں کی وجہ سے اس گمان کو تقویت مل رہی ہے کہ مصر کا انقلاب خطرے میں ہے۔ حسنی مبارک سے تعلق رکھنے والے بعض موجودہ حکومتی عہدیداروں کو وائٹ ہاؤس کی حمایت حاصل ہے اور انہی کو مصر کے عظیم عوامی انقلاب کو ضرب لگانے کا ملزم جانا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ حکومت کی باقیات سے مصر کے حکومتی اداروں کی تطہیر اس ملک کے انقلاب کی ایک اہم ضرورت ہے۔ .............
/169