25 اکتوبر 2011 - 20:30

شام کے کئی ملین باشندوں نے دارالحکومت دمشق میں اجتماع کیا اور بشار اسد کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ اجتماع یہ خبر ملنے تک جاری تھا، عوام شام میں بدامنی پھیلانے والے دہشت گردوں اور ان کی حامی بیرونی قوتوں نیز الجزیرہ اور العربیہ ٹی وی چینلوں کے خلاف نعرے لگارہے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کے عوام نے آج "شامی خاندان" کے عنوان سے عظیم ترین اجتماع منعقد کرکے صدر بشار اسد سے یکجہتی کا اعلان کیا؛ آخری خبریں ملنے تک دمشق میں عوامی ریلیاں جاری ہیں اور لوگوں نے شام کے پرچم صدر بشار اسد کی قد آدم تصویریں اٹھا رکھی ہیں۔عوام بشار اسد کی حمایت اور دشمنوں کی جانب سے شام میں دہشت گردی کے خلاف نعرے لگار رہے ہیں۔موصولہ اطلاعات کے مطابق ایک ملین سے زائد افراد آج علی الصبح دمشق کے "میدان امویین" میں جمع ہوئے تھے اور اس کے بعد بھی ہزاروں افراد کی آمد جاری رہی؛ مظآہرین شام میں ہر قسم کی بیرونی مداخلت کی مخالفت میں نعرے لگا رہے ہیں۔ مظاہرین نے سابق شامی صدر مرحوم حافظ اسد کی تصویریں اور حزب اللہ اور فلسطین کے پرچم بھی اٹھا رکھے ہیں۔شامی مظاہرین شام کی طرف سے فلسطینی مزاحمت تحریک کی حمایت کو حالیہ نا امنیوں کا سبب قرار دے رہے ہیں اور فلسطینی مزاحمت کی حمایت جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔مظاہرین قطری حکمران کے بہنوئی اور مصری مفتی "شیخ یوسف القرضاوی"، امریکہ کی حمایت میں شام کی بغاوت کے حامی ترک وزیر اعظم "رجب طیب اردوغان"، اور فرانس میں مقیم خودساختہ شامی عبوری کونسل کے "برھان الغلیون" کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ حال ہی میں اسرائیل کی تحریک پر امریکہ نے شام کے خلاف ایک قرارداد سلامتی کونسل کو پیش کی تھی جس کو روس اور چین نے ویٹو کردیا چنانچہ آج شامیوں نے ان دو ملکوں کا شکریہ ادا کرنے کے طور پر روسی اور چینی پرچم بھی اٹھا رکھے ہیں۔شامی مظاہرین یکصدا ہوکر نعرہ لگا رہے ہیں "الشعب یرید بشار الاسد"؛ (قوم بشار اسد ہی کو چاہتی ہے)۔اس عظیم اجتماع میں اسکولوں اور جامعات کے ہزاروں طلبہ اور اہم سیاسی اور سماجی شخصیات شریک ہیں جو شام کے معاملات میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو مسترد کررہے ہيں اور قطر کے الجزیرہ چینل اور سعودی عرب کے العربیہ چینل کی جانب سے شرارت آمیز تشہیری چلائے جانے کی شدید مذمت کررہے ہیں۔مظاہرے میں شریک ایک شامی طالبعلم نے العالم کے نامہ نگار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: میں آج یہاں آیا ہوں تا کہ صدر بشار اسد کی حمایت کا اعلان کروں اور قومی وحدت کے خلاف بیرونی سازشوں اور کسی قسم کی بیرونی مداخلت کو مسترد کروں۔شامی طالبعلم نے کہا: شام کی قوم آج ایک اہم پیغام کی حامل ہے اور وہ یہ کہ "اگر صدر بشار اسد اپنی مرضی سے بھی اقتدار چھوڑنا چاہیں ہم انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ صدر بشار اسد کی ذات مزاحمت کے فرنٹ لائن میں ہماری طاقت اور ہیبت کا سرمایہ ہیں"۔دمشق میں شامی عوام کے مختلف طبقوں کا یہ عظیم اجتماع تا حال جاری ہے اور مقررین صدر اسد اور شام کے نظام حکومت کے حق میں تقریریں کررہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔/110