23 اکتوبر 2011 - 20:30

مصر کے معروف دانشور محمد حسنین ہیکل نے خبردار کیا ہے کہ مغربی ممالک شیعہ سنی اختلافات پھیلا کر خطے کو تقسیم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔

ابنا: اسلام ٹائمز- فارس نیوز ایجنسی کے مطابق مصر کے معروف دانشور، تاریخ دان اور تجزیہ نگار محمد حسنین ہیکل نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل خطے میں رونما ہونے والی انقلابی تحریکوں سے سوء استفادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطہ "سائکس پیکو" جیسے منصوبوں کی زد میں آنے کے خطرات سے دوچار ہے۔ جناب محمد حسنین ہیکل نے کہا کہ مغربی قوتیں اہلسنت اور اہل تشیع کے درمیان لڑائی اور اختلافات پیدا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے "الاہرام مصر" سے گفتگو کرتے ہوئے تاکید کی کہ عرب دنیا آج جن تبدیلیوں سے گزر رہی ہے وہ صرف "عربی بہار" ہی نہیں بلکہ سائکس پیکو جیسے منصوبے اسکی تقسیم کیلئے بنائے گئے ہیں۔ پہلا منصوبہ مغربی یعنی امریکی – یورپی، دوسرا اسرائیلی اور تیسرا ترکی ہے۔ معروف مصری محقق نے کہا کہ امریکہ نے اخوان المسلمین مصر کو اس لئے تسلیم نہیں کیا کہ یہ تنظیم اسے اچھی لگی ہے بلکہ یہ امریکی اقدام ان مغربی دانشمندوں کے مشورے سے کیا گیا ہے جو عالم اسلام میں فتنہ برپا کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: اخوان المسلمین کی اس امریکی اقدام کی وجہ سے خوشی اور سرور اس بات کا باعث بنا کہ وہ امریکہ کے حقیقی محرکات کے بارے میں تحقیق انجام نہ دیں۔محمد حسنین ہیکل نے کہا کہ امریکی – یورپی مغربی منصوبہ دو طرف سے خطے کو اپنے گھیرے میں لے رہا ہے، ایک طرف تو قابل مشاہدہ ہے اور وہ ایسی کوششیں ہیں جنکا مقصد خطے میں شیعہ سنی فسادات برپا کرنا ہے، یہ کوششیں کئی سالوں سے شروع ہو چکی ہیں، جب سے ایران میں شہنشاہی نظام کا خاتمہ ہوا ہے اور اسکی جگہ اسلامی انقلاب نے لے لی ہے۔ مغربی منصوبے کی دوسری طرف فتنہ گری کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کوششیں ہیں جنکا مقصد خطے کو تقسیم کرنا ہے جیسا کہ سائکس پیکو منصوبے میں انجام پایا ہے۔ [یہ منصوبہ 1916 میں خطے کی تقسیم کا باعث بنا]۔حسنین ہیکل نے 1916 میں سائکس پیکو کے خفیہ منصوبے کے تحت سلطنت عثمانیہ کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے کی سازش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جدید سازشیں سلطنت عثمانیہ کو تقسیم کرنے کیلئے نہیں بلکہ عرب دنیا کو تقسیم کرنے کیلئے تیار کی جا رہی ہیں، وہ عرب دنیا جو عالمی استعمار کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور کافی حد تک اسکے اثر و رسوخ کو خطے میں کم کر چکی ہے۔معروف مصری تاریخ دان اور محقق نے کہا: ہم نے دیکھا کہ لیبیا میں تیل کے شیئرز تقسیم کئے گئے، 30 فیصد فرانس کو ملے [ٹوٹل کمپنی کو]، 20 فیصد برطانیہ کو [برٹش پٹرولیم کمپنی کو]۔ برطانیہ کا حصہ کم ہے کیونکہ اس نے عراق میں زیادہ حصہ لیا ہے۔ اس وقت میرے پاس لیبیا کے تیل کے باقی حصہ داروں کی لسٹ نہیں ہے لیکن اٹلی [اینی کمپنی] بھی اپنے حصے کی خواہاں ہے۔ دوسری طرف بعض علاقوں کو بھی تقسیم کر لیا گیا ہے مثلا طرابلس میں فوجی اڈہ امریکہ کو جبکہ بن غازی اور طبرق میں انٹلی جنس مراکز امریکہ کو سونپ دیئے گئے ہیں۔ اٹلی بھی تاریخی اعتبار سے لیبیا میں اپنے حصے کا دعویدار ہے جبکہ فرانس نے بھی سمندری راستے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ تقسیمات ایسے وقت انجام پائے جب جنگ ہو رہی تھی اور عوام کا خون بہایا جا رہا تھا۔محمد حسنین ہیکل نے یہ سوال پیش کرتے ہوئے کہ آیا نیٹو عرب سرزمینوں کو آزاد کروانے کے درپے ہے، کہا: کچھ ہفتے قبل ایک اخبار میں پڑھا کہ نیٹو طرابلس کو آزاد کروانا چاہتی ہے، کیا نیٹو عرب سرزمینوں کی آزادی کے درپے ہے؟۔انہوں کہا کہ سائکس پیکو کے خفیہ معاہدے میں سلطنت عثمانیہ قربانی کا بکرا بنی لیکن آج ترکی نئی تقسیم بندی میں حصہ دار بننا چاہتا ہے۔ محمد حسنین ہیکل نے کہا کہ اسرائیل کا منصوبہ انتہائی واضح ہے کیونکہ وہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی تشکیل کی صورت میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھائے گا۔

............

/169