ابنا: ڈاکٹر علي لاريجاني نے العالم ٹي وي چينل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ايران کے خلاف امريکا کا معاندانہ موقف ايک غلط پاليسي ہے اور وہ ايران کے ساتھ جيسا سلوک کرے گا اس کے ساتھ بھي ويسا ہي سلوک ہوگا- انہوں نے ايران پر مزيد پابندياں عائد کرنے کي امريکي دھمکيوں کي مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان دھمکيوں کا تہران پر کوئي اثر نہيں پڑے گا- ڈاکٹر لاريجاني نے ايران کے سلسلے ميں امريکا کے معاندانہ موقف کے ماضي کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس کي جانب سے اسرائيل کے ايٹمي اسلحے کے گوداموں کو نظرانداز کيا جانا، واشنگٹن کي دوہري پاليسيوں کي ايک مثال ہے- انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان جيسے ايران کے بعض ہمسايہ ممالک کے پاس بھي ايٹمي ہتھيار ہيں تاہم چونکہ وہ امريکا کے دوست ہيں اس ليے انہيں کوئي مشکل پيش نہيں آتي جبکہ امريکا ايران کے پرامن ايٹمي پروگرام کے سلسلے ميں بہت زيادہ رکاوٹيں ڈال رہا ہے-
انہوں نے واشنگٹن ميں سعودي عرب کے سفير کے قتل کي مبينہ سازش ميں ايران کے ملوث ہونے پر مبني امريکا کے نئے سناريو کو انتہائي بچکانہ بتايا اور کہا کہ اسلامي انقلاب اصولي طور پر اس قسم کے حربوں کا مخالف ہے اور امريکي اس سناريو کے توسط سے علاقے ميں اختلافات پيدا کرنے کي کوشش کر رہے ہيں- اسپيکر مجلس شورائے اسلامي نے اس بات پر تاکيد کرتے ہوئے کہ امريکا کا رويہ صرف علاقے کے نقصان ميں ہے اور علاقائي ممالک اس حقيقت کو سمجھ چکے ہيں کہ امريکي اپنے مفادات کي تکميل چاہتے ہيں، کہا کہ خطے ميں آنے والے انقلابوں کے بعد صيہوني حکومت اپنے کو مزيد الگ تھلگ اور ٹوٹتا ہوا محسوس کرنے لگي ہے اور چونکہ امريکا ميں اسرائيل کي مضبوط لابي ہے اور امريکا ميں بھي انتخابات ہونے والے ہيں، لہذا اوباما سوچ رہے ہيں کہ اس قسم کي حرکتوں سے وہ اپني پوزيشن کو مضبوط بنا سکتے ہيں- ڈاکٹر علي لاريجاني نے بحرين کے مسئلے ميں ايران اور سعودي عرب کے درميان پائے جانے والے اختلاف کے بارے ميں کہا کہ ممکن ہے کہ مختلف مسائل کے بارے ميں ہمارے الگ الگ نظريات ہوں اور بحرين کے مسئلے ميں بھي ہميں اپنے نظريے سے قطع نظر يہ ديکھنا چاہيے کہ اس ملک کے عوام کيا چاہتے ہيں- انہوں نے کہا کہ بحرين کے عوام کہہ رہے ہيں کہ ہم جمہوريت کے علاوہ کسي اور چيز کے خواہاں نہيں ہيں اور ہر شخص کو ايک ووٹ کا حق ملنا چاہيے ليکن اگر کوئي يہ کہتا ہے کہ ہر پانچ شيعوں کو ايک ووٹ اور ہر سني کو ايک ووٹ کا حق ملنا چاہيے تويہ ديکھنا ہوگا کہ يہ منطق کہاں سے آئي ہے اور ہم کس طرح اس مسئلے کا دفاع کر سکتے ہيں- پارليمنٹ کے اسپيکر نے کہا کہ بحرين اور يمن ميں بھي يہي صورتحال ہے اور کوئي بھي اس بات پر يقين نہيں کر سکتا کہ بحرين اور يمن ميں ہونے والے قتل عام، امريکا کي ہري جھنڈي کے بغير ہو رہے ہيں ــ
...........
/169