23 اکتوبر 2011 - 20:30

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے عراق سے امریکی فوجیوں کی ذلت آمیز پسپائی کا جواز پیش کرتے ہوۓ دعوی کیا ہےکہ عراق سے امریکی فوجیوں کی پسپائي کے بعد ایران اس ملک میں اپنا اثر رسوخ بڑھانے کی کوشش کرے گا۔

ابنا: وسطی ایشیاء کا دورہ کرنے والی ہلیری کلنٹن آج ازبکستان میں میں نامہ نگاروں کو انٹرویو دیتے ہوۓ عراق سے امریکی فوجیوں کی پسپائی کے بعد بھی اس ملک میں امریکہ کی بھرپور موجودگی پر تاکید کرتے ہوۓ کہا ہے کہ عراق میں امریکہ کی موجودگی جاری رہے گی کیونکہ خطے میں اسے ایک خاص مقام حاصل ہے اور امریکہ اپنے آپ کو عراق کے مستقبل کا پابند جانتا ہے۔ ہلیری کلنٹن نے یہ جو کہا ہے کہ امریکہ خود کو عراق کے مستقبل کا پابند جانتا ہےتو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکہ کو عراق کے مستقبل کے بارے میں کوئي تشویش لاحق ہے بلکہ وہ عراق اور خطے میں اپنے ناجائز مفادات سے محروم ہونے کی تشویش میں مبتلاء ہے ۔ جبکہ عراقیوں کو اپنے ملک پر قبضے کے دوران تباہی و بربادی ، لاکھوں انسانوں کے قتل عام ، ابوغریب جیل میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں عراقیوں پر تشدد اور عراق میں دہشتگردانہ اقدامات میں شدت کے سوا کچھ دکھائي نہیں دیتا ہے۔ حقیقت میں امریکی حکام نے مختلف بہانوں کے ساتھ آخری لمحے تک امریکی فوجیوں کو عراق میں باقی رکھنے کی کوشش کی لیکن عراق کے حکام ، عوام اور مجتہدین کی مخالفت کے باعث یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ امریکی حکام اصل مسئلے کو غلط رنگ دے کر حقائق کو تبدیل کرنے کے درپے ہیں حالانکہ امریکی حکام کو عراق میں ایران کے کردار کے بارے میں مفروضے بیان کرنے کے بجاۓ عراقی اور ان امریکی عوام کے سامنے جواب دہ ہونا چاہۓ جن کے ایک ہزار ارب ڈالر مالیت کے ٹیکسوں کو انہوں نے عراق اور افغانستان میں قبضے کے سلسلے میں خرچ کردیا ہے۔ جس کا واحد نتیجہ یہ نکلا ہےکہ امریکہ دنیا بھر کی ملتوں کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت ملک بن چکا ہے۔ دریں اثناء امریکہ کی حمایت کی وجہ سے عراق نے دہشتگرد گروہوں کے لۓ ایک محفوظ پناہ کی حیثیت بھی اختیار کر لی ہے۔ اور امریکہ عراق اور افغانستان میں دہشتگردوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور ان کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے۔ جس کی وجہ سے خطے سے بدامنی کے خاتمے کے بجاۓ بدامنی کو خطے میں وسیع پیمانے پر فروغ ملا ہے۔ در حقیقت عراق میں سات لاکھ شہریوں کا قتل ، تقریبا دس لاکھ خواتین کو بیوہ اور تیس لاکھ بچوں کو یتیم کرنا اور عراق کی بنیادی تنصیبات کی تباہی ان وعدوں کا حصہ ہے جن کی امریکہ نے عراق میں پابندی کی ہے۔ اسی کارکردگي کے پیش نظر ہلیری کلنٹن نے عراق سے انتالیس ہزار امریکی فوجیوں کی پسپائي کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہا ہے کہ کسی کو بھی عراق سے متعلق ہمارے وعدوں خصوصا ایران سے متعلق ہمارے وعدوں کی پابندی کے سلسلے میں شک نہیں ہونا چاہۓ۔ بعض سیاسی مبصرین نے ہلیری کلنٹن کے اس بیان کا جائزہ ریپبلیکن پارٹی کے سینیٹر جان مک کین کے حالیہ بیانات کے تناظر میں لیا ہے جس نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک عراق سے امریکی فوجیوں کی پسپائي کے باراک اوباما کے فیصلے کو ایران کی کامیابی جانتے ہیں۔ جان مک کین نے عراق سے امریکی فوجیوں کی پسپائي کو ایک بڑی غلطی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ شائد ہم عراقی حکومت کے ساتھ اس سلسلے میں سمجھوتہ کرسکتے تھے۔ یہ بیانات اور امریکہ کے مخاصمانہ مواقف سے پتہ چلتا ہے کہ ابھی تک امریکی حکام کو خطے کی اقوام کا پیغام سمجھ میں ہی نہیں آیا ہے اور وہ اس خیال خام میں مبتلاء ہیں کہ ایران فوبیا کے ذریعے خطے اور عراق میں ماضی کی طرح مداخلت کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں حالانکہ عراقی عوام نے بارہا تاکید کی ہے کہ ایران ہمیشہ مشکلات میں عراقی حکومت اور عوام کے ساتھ رہا ہے کیونکہ ایران نے کبھی بھی عراق میں بدامنی سے فائدہ نہیں اٹھایا ہے اس لۓ عراق سے امریکی فوجیوں کی پسپائی کے بعد امریکی حکام کی تشویش کی کوئي وجہ نہیں ہے۔./169