ابنا: يمن کے لاکھوں عوام نے ايک بار پھر ملک کے مختلف شہروں اور صوبوں ميں مظاہرے کرکے ڈکٹيٹر عبداللہ صالح کو خبردار کيا ہے کہ وہ ليبيا کے ڈکيٹير کے انجام سے سبق لے -
العالم کي رپورٹ کے مطابق دارالحکومت صنعا ميں الستين اسکوائر پر لوگوں نے بہت بڑي تعداد ميں اجتماع کرکے ليبيا کے انقلاب کي کاميابي پر ليبيائي عوام کو مبارکباد پيش کي - اس احتجاجي مظاہرے ميں شريک لوگوں نے عبداللہ صالح کي حکومت کے خلاف پرامن مظاہرے جاري رکھنے کے اپنے عزم کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ وہ ڈکٹيٹر عبداللہ صالح کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کے اپنے مطالبے سے کسي بھي صورت ميں دستبردار نہيں ہوں گے -
مظاہرين نے اس موقع پر عبداللہ صالح کے کارندوں کے ہاتھوں مارے گئے متعدد افراد کے جلوس جنازہ ميں بھي حصہ ليا اور اعلان کيا کہ عبداللہ صالح کا انجام قذافي سے بھي زيادہ برا ہوگا - يمن سے موصول ہونےوالي خبروں ميں کہا گيا ہے کہ جمعہ کو يمن کے تقريبا سبھي شہروں کے مرکزي چوک پر حکومت کے خلاف بڑے بڑے اجتماعات ہوئے جن کے دوران لوگ يمن کي موجودہ حکومت کي برطرفي کا مطالبہ کررہے تھے - صعدہ ، تعز اور الحديدہ صوبوں کے شہروں کے عوام نے اپنے مظاہروں کے دوران يمن ميں امريکا اور سعودي عرب کي مداخلتوں کي بھي مذمت کي-دوسري طرف اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل نے يمني ڈکٹيٹر عبداللہ صالح سے کہا ہے کہ وہ اقتدار چھوڑ دے - امريکا نے بھي کہا ہے کہ عبداللہ صالح کو چاہئے کہ وہ اقتدار سے کنارہ کش ہوجائے - سلامتي کونسل نے يمن سے متعلق ايک قرارداد منظور کي ہے جس ميں مظاہرين پر طاقت کے استعمال کي مذمت کي گئي ہے - مذکورہ قرارداد ميں عبداللہ صالح سے کہا گيا ہے کہ وہ عام شہريوں پر حملے بندکرےاور اقتدار سے الگ ہوجائے - امريکي دفتر خارجہ کے ترجمان نےواشنگٹن ميں صحافيوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عالمي برادري نے يمني صدر کو واضح پيغام ديا ہے کہ وہ يمن کے عوام کو عدم تحفظ اور تشدد سے پاک ماحول ميں جينے کا موقع ديں- امريکي دفتر خارجہ ترجمان کا يہ بيان ايک ايسے وقت آيا ہے جب يمن کے عوام اپنے ملک ميں امريکي مداخلت اور عبداللہ صالح کے لئے واشنگٹن کي حمايت کو لے کر سخت برہم ہيں -
.....
/169