21 اکتوبر 2011 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران اور ترکی کے مشترکہ اعلی سلامتی کمیشن کی تشکیل کے بعد دہشتگردی سےمقابلے کے سلسلے میں دونوں ممالک کے باہمی تعاون میں فروغ آۓ گا۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی اور ترکی کے حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں ایران اور ترکی کے عوام کی سلامتی کے لۓ خطرہ ثابت ہونے والے دہشتگرد گروہوں سے مقابلے کا موضوع خاص طور پر زیر بحث آیا ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی کل ترکی پہنچے اور انہوں نے اس ملک کے صدر عبداللہ گل اور وزیر خارجہ داوود اوغلو کے ساتھ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر بھی تبادلۂ خیالات کیا۔ حالیہ مہینوں میں دہشتگرد گروہوں سے مقابلے کے سلسلے میں باہمی تعاون ایران اور ترکی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا اہم موضوع رہا ہے۔ ترکی کو سنہ انیس سو چوراسی سے دہشتگرد گروہ پی کے کے کے حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دہشتگرد گروہ اور ترکی کی سیکورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ادھر دہشتگرد گروہ پژاک نے حالیہ برسوں میں دہشتگردانہ کارروائياں انجام دے کر ایرانی عوام کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ در حقیقت دہشتگرد گروہ پژاک پی کے کے کا ہی ایک ایران مخالف دھڑا ہے۔ یہ دہشتگرد گروہ عراق پر امریکی قبضے کے بعد سے ایران کی شمال مغربی سرحدوں پر گھات لگاۓ بیٹھا ہے اور وقتا فوقتا ایران کے سرحدی علاقے میں کہ جہاں کردوں کی اکثریت ہے دہشتگردانہ کارروائياں انجام دے کر بدامنی پیدا کرتا رہتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اس دہشتگرد گروہ کے خلاف آپریشن کر کے اسے کاری ضربیں لگائي ہیں۔ یہاں تک کہ سردشت میں واقع اس دہشتگرد گروہ کے جاسوسوں کے گڑھ پر قبضہ کر لیا جس کے بعد اس دہشتگرد گروہ کے باقی ماندہ عناصر ایران سے فرار ہو گۓ۔ حالیہ چند دنوں میں ترکی کی فوج نے بھی دہشتگرد گروہ پی کے کے کے خلاف وسیع پیمانے پر زمینی اور فضائی آپریشن کا آغاز کیا۔ لیکن اس کے باوجود دہشتگردانہ اقدامات کی روک تھام اور دہشتگرد گروہوں کی نابودی کے لۓ ایران اور ترکی کے درمیان باہمی تعاون بہت ضروری ہے۔ کل اسلامی جمہوریہ ایران اور ترکی کے وزراۓ خارجہ نے بند کمرے میں انجام پانے والے مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران مشترکہ اعلی سلامتی کمیشن کی تشکیل کی خبر کا اعلان کرتے ہوۓ تاکید کی کہ دونوں ممالک دہشتگرد گروہوں سے مقابلے کے سلسلے میں سنجیدہ ہیں اور وہ اس وقت تک باہمی تعاون جاری رکھیں گے جب تک ان دونوں دہشتگرد گروہوں کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ دہشتگردی سے مقابلے اور خطے میں قیام امن کے لۓ خطے کے تمام ممالک کے درمیان شفاف اور گہرا تعاون ضروری ہے کیونکہ سارے خطے کو دہشتگردی کا سامنا ہے اور بہت جلد دہشتگردی کا خطرہ دہشتگردی کی حمایت کرنے والے علاقائی اور علاقے سے باہر کے ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔...........

/169