19 اکتوبر 2011 - 20:30

متاثرہ عوام نے کانوائےکے منسوخ ہونے پر علی زئی میں تحصیل دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پاراچنار میں مکمل امن ہے اور وہاں فوج تعینات کر کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق سلب کر کے ہر بیس قدم کے فاصلے پر فوجی چیک پوسٹ پر کھڑا کر کے ان کی تذلیل کی جا رہی ہے۔

ابنا: پاراچنار شہر کے اندر آرمی نے چیک پوسٹیں قائم کرکے عوام کو اصلی شناختی کارڈ کے بغیر شہر کے اندر داخل نہ ہونے کے احکامات جاری کئے ہیں، جبکہ لوئر کرم میں عدم سکیورٹی اور طالبان کے دھمکیوں کی وجہ سے گذشتہ دن پاراچنار سے پشاور جانے والی سرکاری کانوائے منسوخ کرنے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

سکیورٹی فورسز نے گذشتہ دن اعلان کیا تھا کہ علیزئی سے ٹل تک کانوائے روانہ ہو گی تاکہ پاراچنار سے پشاور اور پشاور سے پاراچنار آنے والے افراد کو سہولت مہیا ہو جائے، جس کے بعد پاراچنار کے مظلوم عوام ہزاروں روپے فی پرائیوٹ گاڑی پکڑ کر رات کے وقت پاراچنار سے علیزئی پہنچے لیکن انہیں علیزئی پہنچنے پر بتایا گیا کہ طالبان دھمکیوں کے پیش نظر کانوائے منسوخ کر دی گئی ہے جس سے عوام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ غم و غصے سے بھپرے متاثرہ عوام نے کانوائے کے منسوخ ہونے پر علی زئی میں تحصیل دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پاراچنار میں مکمل امن ہے اور وہاں فوج تعینات کر کے عوام کے  بنیادی انسانی حقوق سلب کر کے ہر بیس قدم کے فاصلے پر فوجی چیک پوسٹ پر کھڑا کر کے ان کی تذلیل کی جا رہی ہے جبکہ لوئر و ایف آر کرم جہاں طالبان دہشت گردوں کی موجودگی اور ٹل پاراچنار روڈ کی بندش کی وجہ سے فوج و سکیورٹی فورسز کی اشد ضرورت ہے وہاں فوج تعینات کرنے کی بجائے پاراچنار کے عوام کو مزید تکلیف دینے کے لئے تا حکم ثانی کانوائے ملتوی کر کے ظلم کے اوپر ظلم کیا جا رہا ہے۔

عوام کی حالت اس وقت "آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا" کے مترادف ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاراچنار شہر میں مذکورہ چیک پوسٹوں کی سکیورٹی گذشتہ تین سالوں سے طوری اور بنگش رضا کار سنبھال چکے تھے، اس دوران نہ ہی کوئی خودکش حملہ ہوا اور فوج اور ایف سی بھی بغیر ہتھیار کے پاراچنار شہر میں بغیر ہتھیار تک کے گھوم پھر سکتی تھی اور پاراچنار کا امن اسلام آباد سے بھی مثالی تھا، اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

- کرم ایجنسی: فورسز کی کارروائی، 6شدت پسند ہلاک / پاراچنار میں بھی ایف سی کی اشتعال انگیز کاروائی

- پاراچنار - ایک بار پھر؛ "اہل تشیع اور اہل سنت کے مابین قیام امن کا معاہدہ"، / خدشات

- پاراچنار: ناقص امن ڈیل؛ معاہدہ صرف پاراچنار سٹی میں نافذالعمل ہوگا!!!

............

/169