اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لیبیا سے موصولہ اطلاعات میں 42 سال سے لیبیا پر مسلط ڈکٹیٹر کرنل معمر قذافی کی گرفتاری یا ہلاکت کی خبریں ملی ہیں اور لیبیا کی قومی عبوری کونسل نے انہیں زخمی حالت میں گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔
الجزيرہ ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق لیبیائی صدر کو ان کے آبائی علاقے سر ت میں ایک جھڑپ کے دوران فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔
ادھر قذافی کے قریبی ذرائع نے ان خبروں کی تردید کی تھی لیکن قذافی کی زخمی حالت میں تصویریں نشر ہونے سے عبوری حکومت کے دعووں کی تصدیق ہورہی ہے۔
دریں اثناء شہرسرت پر قبضہ کرنے کے بعد انقلابیوں کا پورے ملک پر قبضہ ہوگيا ہے۔بعض ذرائع کے مطابق لیبیا کے وزیر دفاع عبداللہ السنوسی بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔

سب سے پہلے شائع ہونے والی تصویر
یاد رہے کہ اس سے قبل 35 لاکھ انسانوں کے قاتل صدام کو ایک کنویں سے زندہ "برآمد" کیا گیا تھا جس کے بعد اس کو عوام کے قتل عام کے بدلے پھانسی کی سزا ہوئی اور اب یہ دوسرے عرب ڈکٹیٹر ہیں جن کو زیر زمین پناہگاہ میں گولی ماری گئی ہے اور یہ تصویر اس وقت کی ہے جب معمر قذافی زخمی حالت میں انقلابیوں کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے تھے۔ یہ تصویر سیل فون سے لی گئی ہے۔

فوٹوشاپ سے تیار کردہ تصویر
کہا جاتا ہے کہ قذاقی اس تصویر (سب سے پہلے شائع ہونے والی تصویر) میں زندہ تھے لیکن مصراتہ شہر منتقلی کے دوران راستے میں ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔قذافی نے کئی بار عوام کو چوہوں سے تشبیہ دی تھی لیکن تصویریں دیکھ کر قارئین خود بتاسکتے ہیں کہ وہ سچ بول رہے تھے یا پھر درحقیقت عوام کو اپنے انجام کی خبر دے رہے تھے؟لیبیا میں خوشی کا سماں ہے دارالحکومت طرابلس میں بے تحاشا ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد کی ہلاکت کی اطلاغات بھی ہیں۔دریں اثناء سرت شہر کی شوری کے رکن "ابوبکر الفرجانی" نے قذافی کی خفیہ ٹھکانے کے انکشاف کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ قذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے وزیر دفاع السنوسی سے موبائل فون پر رابطہ کرکے قذافی کو شہر سے نکالنے کے امکانات پر بات چیت کی اور ہم نے اس رابطے کو ٹریک کرلیا اور انقلابی فورسز نے حملہ کیا لیکن فائرنگ کے زبردست تبادلے میں قذافی زخمی ہوئے اور السنوسی مارے گئے جبکہ قذافی اسپتال منتقلی کے دوران راستے ہی میں ہلاک ہوگئے۔
عوام اور انقلابیوں کو چوہوں سے تشبیہ دینے والے آمر حکمران جو اپنے آپ کو "ملک الملوک الافریقیۃ" (افریقہ کے بادشاہوں کے بادشاہ) جیسے القاب سے نوازا کرتے تھے، ایک زیر زمین سرنگ سے زخمی حالت میں گرفتار ہوئے۔
عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ موت کی آنکھوں میں آنکھین ڈالنے کے دعویدار قذافی کو دوطرفہ فائرنگ کے دوران گولی لگی تھی اور وہ چلا چلا کر کہہ رہے تھے کہ "گولی مت چلاؤ گولی مت چلاؤ"۔

/
|
عوام کو چوہوں سے تشبیہ دینے والے ڈکٹیٹر کا زیر زمین مسکن کرنل کے ایک محافظ کی لاش بھی ساتھ پڑی نظر آرہی ہے
14:50 بجے خبر آئي کہ: کرنل کو گرفتار کیا گیامصراتہ کی فوجی کمیٹی نے اعلان کیا کہ معمر قذافی سرت میں اپنے خفیہ ٹھکانے سے گرفتار کرلئے گئے ہیں۔اس اطلاع کے مطابق انقلابیوں کی البرکان یونٹ نے انہیں گرفتار کرلیا ہے۔

15:10 بجے: قذافی گرفتاری کے بعد خفیہ مقام پر منتقل کئے گئے ہیںانقلابی فورسز سے سرت شہر پر مکمل کنٹرول کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قذافی کی وفادار فورسز کا آخری اڈے کو بھی آزاد کرالیا گیا ہے اور انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق قذافی کی دو ٹانگیں جھڑپ کے دوران زخمی ہوگئی ہیں۔سرت کی مقامی شوری کے رکن ابوبکر الفرجانی نے کہا ہے کہ قذافی کو شدید چھوٹ آئے ہیں اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔عبوری حکومت نے سرت شہر پر مکمل قبضے کا اعلان کرتے ہوئے اس کو انقلابیوں کی عظیم کامیابی قرار دیا ہے۔ٹی وی چینلوں نے گاڑیوں پر سوار مسلح انقلابیوں اور سرت شہر کے باشندوں کو خوشیاں مناتے ہوئے دکھایا ہے۔سرت شہر لیبیا کے آمر معمر قذافی کا آبائی شہر ہے اور وہ اسی شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ شہر لیبیا کے شمال میں طرابلس اور بنغازی کے درمیان واقع ہے۔

16:11 بجے: وزير دفاع السنوسی اور قذافی کا بیٹا الخمیس بھی مارے گئے ہیںابوبکر الفرجانی نے سرت شہر پر انقلابی قوتوں کے قبضے، معمر قذافی کی گرفتاری اور مصراتہ شہر کی طرف منتقلی کے دوران زخموں کی شدت کی بنا پر ان کی ہلاکت کے بعد کہا ہے کہ ہمیں دو لاشیں ملی ہیں جن میں ایک قذافی کے وزیر دفاع السنوسی کی ہے اور دوسری قذافی کے بیٹے خمیس القذافی کی ہے۔بعض ذرائع نے کہا تھا کا قذافی کے تین بیٹے سيف الاسلام، محمد اور سعدي حالیہ پہلے ہی گرفتار کئے جاچکے تھے لیکن بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے ٹھکانے کا بھی سراغ لگایا جاچکا ہے اور انقلابی فورسز نے ان کا محاصرہ کرلیا ہے۔

قذافی کا بیٹا خمیس القذاقی اور عبداللہ السنوسی جن کی موت کی خبریں ہیں
قذافی کا بیٹا سیف الاسلام قذافی بھی گرفتار!الجزیرہ ٹی وی چینل نے اپنے بریکنگ نیوز کے ضمن میں کہا ہے کہ قذافی کا بیٹا سیف الاسلام قذافی، بھی گرفتار کرلیا گیا ہے اس کی دونوں ٹانگیں گولی لگنے سے زخمی ہوگئی ہیں۔اس خبر کی غیرجانبدار ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
معمر قذافی کی موت کیسے واقع ہوئی؟دریں اثناء العالم ٹی وی چینل پر قذافی کی تصویریں نشر ہورہی ہیں جن میں وہ زخمی ہیں لیکن چلتے پھرتے نظر آرہے ہیں اور بظاہر انقلابی نوجوانوں کو برا بھلا کہہ رہے ہیں اور کچھ افراد اس کو گاڑی میں کھینچ لیتے ہیں اور اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کہا گیا ہے کہ ان کے پہلو کو 9mm رائفل سے گولی ماری گئی ہے جس کی وجہ سے ان کی ہلاکت واقع ہوئی ہے۔
سیف الاسلام بھی مارا گیا، العربیہ ٹی وی چینل کا دعویالعربیہ نے تھوڑی دیر پہلے دعوی کیا ہے کہ سیف الاسلام کی لاش مصراتہ کے ائیرپورٹ منتقل کیا گيا ہے۔ اس دعوے کے مطابق سیف الاسلام ـ جس نے 2003 میں لاکربی طیارہ دھماکا کیس کی ذمہ داری قبول کرکے اور کروڑوں ڈالر تاوان ادا کرکے اور جوہری پروگرام کے تمام مشینین اور اوزار و آلات امریکہ کے سپرد کرکے اپنے والد کی حکومت بچائے رکھا تھا ـ کو سرت شہر سے فرار ہوتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔

اپنے انجام سے غافل سیف الاسلام لیبیا کے قومی ٹیلی ویژن پر انقلابی عوام کو دھمکیاں دیتے وقت
العربيہ نے معتصم قذافی کی لاش کی تصویریں بھی دکھا دیںالعربیہ ٹی وی چینل نے سیف الاسلام کی ہلاکت کی خبر نشر کرنے کے بعد قذافی کے بیٹے معتصم قذافی کی لاش کی تصویری نشر کی ہیں۔لیبیا کی عبوری حکومت کے وزیر اطلاعات نے اس قبل ازیں معتصم کی موت کی تصدیق کی تھی۔