18 اکتوبر 2011 - 20:30

پاراچنار… وسطی کرم ایجنسی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فورسز کی کارروائی میں 6 شدت پسند ہلاک ہوگئے / سیکورٹی فورسز نے کل خرلاچی میں اشتعال انگیز کاروائی کرتے ہوئے ایک اسکول ٹیچر کو گرفتار کرلیا ہے/ لوئر کرم میں لوگوں کو نوٹس؛ پاراچنار میں دوبارہ بحال ہونے کے لئےتیار ہوجاؤ!۔

پاراچنار… وسطی کرم ایجنسی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فورسز کی کارروائی میں 6 شدت پسند ہلاک ہوگئے / سیکورٹی فورسز نے کل خرلاچی میں اشتعال انگیز کاروائی کرتے ہوئے ایک اسکول ٹیچر کو گرفتار کرلیا ہے/ لوئر کرم میں لوگوں کو نوٹس؛ پاراچنار میں دوبارہ بحال ہونے کے لئےتیار ہوجاؤ!۔ ابنا: وسطی کرم ایجنسی کے علاقے سپیرکوٹ میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر آج علی الصبح فورسز نے بھاری توپ خانے سے گولہ باری کی، سرکاری دعوے کے مطابق کارروائی میں 6 شدت پسند ہلاک اور ان کے دو ٹھکانے تباہ ہوگئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جس علاقے کو نشانہ بنایا گیا وہاں مْلاطوفان گروپ کے شدت پسندوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ 

بشکریہ از جنگ ڈاٹ نیٹ / اردو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169حقیقت تو یہ ہے کہ اس علاقے میں ملاطوفان سے زیادہ جرائم فضل سعید حقانی نے انجام دیئے ہیں جس کے ذمے سینکڑوں افراد کا خون بھی ہے اور کئی افراد ابھی تک اس کے ہاں اسیر ہیں لیکن سرکار اس کو ہاتھ نہیں لگاتی کیونکہ وہ سرکار پر حملے نہیں کرتا اور سرکاری اہلکار اس کے زیر قبضہ علاقوں میں آتے جاتے ہيں اور علاقے کے شہیدوں کی لاشیں اس کے گروپ سے اپنی تحویل میں لیا کرتے ہیں۔ادھر اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ادھر پاراچنار کی تازہ ترین صورت حال کچھ یوں ہے کہ مظلوم شیعیان اہل بیت کے خلاف بھی سیکورٹی فورسز نے اشتعال انگیز کاروائیاں کرتے ہوئے خرلاچی گاؤں پر چھاپہ مارا اور ایک اسکول ٹیچر کو گرفتار کرلیا جس پر لوگ اپنے گھروں سے نکل آئے اور دوسری ایجنسیوں کے بر عکس سیکورٹی فورسز پر حملہ کرنے کی بجائے اپنی حب الوطنی کا ثبو دیتے ہوئے پرامن احتجاج کیا۔سیکورٹی اہلکار ایک اور شخص کو بھی گرفتار کرنا چاہتی تھیں لیکن وہ ان کو نہ مل سکا۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے جنگ کے دوران وہابیوں اور حقانی نیٹ ورک کا مقابلہ کرنے کے لئے عوام کو ہتھیار فراہم کیا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے وجود، اپنے عقیدے، اپنی زمین اور اپنی سرزمین کا دفاع کیا ان کو "سرکار نے یہ حق نہیں دیا تھا" انہیں تو صرف مرنا چاہئے تھا اور اپنی سرزمین پر غیروں کو قبضہ کرنا چاہئے تھا اور کرم ایجنسی کو ملک دشمن قوتوں کے سپرد کرنا چاہئے تھا۔ اسرائیل نے جب غزہ پر حملہ کیا تو غزہ کے غازیوں نے دیسی میزائلوں سے اپنا دفاع کیا اور اسرائیل نے اقوام متحدہ سے شکایت کی ہے کہ جن لوگوں کو مارکھانا ہے انہیں مارنے کی اجازت کیونکر ہوسکتی ہے اور صہیونیت کی لونڈی اقوام متحدہ نے غزہ پر خونخوار وحشیوں کے حملوں کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونیوں کا دل جیتنے کے لئے حماس کی مزاحمت کی مذمت کی تھی تو کیا پاکستانی غزہ میں بھی عوام کو اسی صورت حال کا سامنا ہے؟ لیکن دوسری طرف سے ہم دیکھتے ہیں اس علاقے پر حملہ آور ہونے والی قوتوں کا خیال تو یہ ہے کہ مسلمان ہیں تو وہی ہیں ان کے سوا کوئی مسلمان نہیں ہے اور وہ بھی ایسے مسلمان جو قرآن کو معاذاللہ رسول اللہ (ص) و اہل بیت (ع) اور صحابہ سے بہتر سمجھتے ہیں؛ گو کہ ان کے تمام اقدامات صہیونیت کے فائدے میں ہوتے ہیں۔بہر کل خرلاچی میں غیرتہذیب یافتہ ملیشیا فورسز کی کاروائی کئی سوالات کو جنم دیا ہے جن میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ "کیا حکومت کرم ایجنسی کے عوام کو ان کے مردانہ وار دفاع کی سزا کا پروگرام نہیں بنا رہی ہے اور کیا نام نہاد معاہدے میں مندرجہ شق کے مطابق مستقبل میں ہونے والی فوجی کاروائی کا ہدف علاقے یے شیعیان اہل بیت (ع) نہیں ہیں؟بہر کیف لوئر کرم کے گھروں ميں نوٹس پھینکے گئے ہيں جن کی تفصیل کچھ یوں ہے:لوئر کرم کے سنی خاندانوں کے گھروں میں نوٹسز پھینک دیئے گئے ہیں اور لوگوں سے کہا گیا ہے کہ گھر خالی کریں کیونکہ "حکومت نے ان کو ان کے اپنے گاؤں میں دوبارہ آباد کرنے کا انتظام کرلیا ہے"۔عجیب بات یہ ہے کہ اہل تشیع کے تمام مسائل زمین پر پڑے ہيں، راستے بدستور بند ہیں، بجلی نہ ہونے کے برابر ہے اور سیل فون سروس بند ہے، اور ایسے حال میں اہل سنت برادران کو لوئر کرم میں ان کی عارضی رہائشگاہوں سے نکالنے کا کیا مقصد ہوسکتا ہے؟ کیا حکومت عوام کو دوبارہ لڑانا نہیں چاہتی؟ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب آنے والے دن خود ہی دے دیں گے لیکن 5 برسوں سے علاقے کے گھاؤ پر مرہم رکھتے سے پہلو تہی کرنے والی حکومت کی یہ اچانک سرگرمی اور جلدبازی پر مبنی اقدامات حیرت انگیز ہیں اور ان اقدامات کو مشکوک قرار دیا چاسکتا ہے چنانچہ اہل تشیع اور اہل تسنن کو خیال رکھنا چاہئے کہ ایک بار پھر دوسروں کی لڑائی کا حصہ نہ بناديئے جائیں۔گورنر خیبرپختونخوا نے بھی دورہ پاراچنار کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کا وہ اٹھارہ اکتوبر کو پاراچنار جارہے ہیں لیکن آج 19 اکتوبر ہے اور ہمیں ابھی تک ان کے اس اچانک اور غیر متوقعہ دورہ انجام بھی پایا یا نہیں؟ ۔کہا گیا تھا کہ گورنر بیرسٹر مسعود کوثر راستے کھولنے اور سیل فون سروس بحال کرنے کے سلسلے میں اہم اعلانات کرنے والے ہیں لیکن چونکہ اس کے دورے کی خبر ابھی تک موصول نہیں ہوسکی لہذا ان اعلانات کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔لوئر کرم میں راستے کھولنے اور طالبان دہشت گردوں سے نمٹنے سے پہلو بچانے والی آرمی کے بارے میں بھی خبریں ہیں کہ وہ پاراچنار شہر میں تعینات ہورہی ہے چنانچہ شہر کے ارد گرد موجودہ چیک پوسٹوں کو بھی علمدار فیڈریشن کے رضآکاروں سے خالی کرایا گیا ہے۔یہ سب کچھ ایسے حال میں ہورہا ہے کہ علاقے کے شیعہ افراد کی عدم بحالی بھی اپنی جگہ اہم نکتہ ہے جو حکومت کی اس جلد بازی سے مطابقت نہیں رہتی۔پاراچنار یا تو نہیں ہوتی یا اگر ہوتی بھی ہے تو بہت کمزور ہوتی ہے اور سیل یا موبائل فون سروس بھی بدستور بند ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110