16 اکتوبر 2011 - 20:30

کراچی… امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ رحمن ملک کا کہنا ہے کہ انہیں عسکریت پسندوں کی طرف سے سیز فائر کی پیش کش ہوئی ہے اوروہ( عسکریت پسند ) بات کرنا چاہتے ہیں۔

ابنا: اخبار کے مطابق عسکریت پسندی سے نمٹنے کے پاکستانی طریقہ کارسے امریکی مایوسی میں اضافہ ہوا ہے، بڑھتی ہوئی امریکی مایوسی کی وجہ پاکستانی حکومت کاعسکریت پسندوں سے مقابلے کی بجائے ، اُن سے بات چیت اور مفاہمت کے ذریعے امن قائم کرنے کی طرف زیادہ مائل ہونا ہے۔حالیہ بیانات کے تسلسل سے واضح ہے کہ پاکستانی حکام نے قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کسی بھرپور فوجی کارروائی کے تصور کو مسترد کرکے ،ان کے ساتھبات چیت کے راستے کومنتخب کیا ہے۔اخبارنے مزیدکہاہے کہ حال ہی میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں بھی سیاسی رہنماوٴں کی جانب سیجاری ہونے والی قرارداد میں دہشت گردی کی مذمت نہیں کی گئی بلکہ مذاکرات کی پالیسی اپنانے پر زور دیا۔اس قراداد کو وسیع پیمانے پر ایک ربڑ اسٹیمپ کے طور پر لیا گیا جسے طاقتور فوج نے جاری کرایا ،اس کانفرنس کو فوج کے اعلیٰ حکام نے بریفنگ دی تھی۔ اخبار کے مطابق اس طریقہ کارسے امریکی حکام پریشان ہو گئے ہیں اور پاکستان میں ان عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے طریقہ کار پر نئی بحث چھڑ گئی ہے، جنہوں نے ملک بھر میں د ہشت کارروائیاں کر کے ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ قیام امن کے اس مفاہمتی یا بات چیت کے عمل کے بارے کچھ واضح نہیں ،ابھی یہ نہیں بتایا گیا کہ اس عمل میں کن عسکریت پسند گروہوں کو شامل کیا جائے گا یا اس عمل کا حصہ بننے میں کون رضا مند ہے،لیکن بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے ملک کے باغیوں ،جنہیں وہ ناراض بھائی خیال کرتے ہیں ،ان سے جنگ کرکے مصالحت یا حل کا موقع کھو دیا ہے ۔ پاکستانی صحافی اور عسکریت پسندی پر ماہر رحیم اللہ یوسف زئی نے حالیہ اجلاس کے متعلق کہا کہ ہر کوئی فوج کی مرضی کے مطابق چلنا چاہتا ہے جس سے یہ واضح ہو گیا کہ فوج کوکسی ملٹری آپریشن کی کوئی جلدی نہیں۔اخبار کے مطابق بہت سے لوگ اس بات چیت کے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ماضی میں ایسی کوششیں ناکام ہوگئی تھی لیکن عسکریت پسندوں سے بات چیت کے خیال کو اسلامی جماعتوں اور دیگر سیاسی رہنماوٴں کی طرف سے حمایت حاصل ہے۔ امریکی اخبار کہتا ہے کہ سیاست دانوں اور سیکورٹی حکام سے انٹرویو سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستانی طالبان کی کمر اس حد تک توڑ دی گئی ہے کہ اب وہ قبائلی عمائدین یا علماء کے ذریعے امن معاہد ہ کا راستہ کھولنا چاہتے ہیں اور اسی نقطہ نظر کی حمایت امریکا افغانستان میں کر رہا ہے۔رحمان ملک کا کہنا ہے کہ امن کو ایک بار موقع دے کر کسی بھی دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے اور یہ بہترین رستہ ہے ۔ اخبار کے مطابق پاکستان کی کمزر سویلین حکومت نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور فوج شمال مغربی حصوں میں کئی آپریشن کامیابی سے مکمل کیے۔

..........

/169