اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ ورلڈ کپ 2014ء' کوالیفائنگ راؤنڈ کے سلسلے میں کھیلے گئے فٹبال میچ میں بحرینی ٹیم کوئی گول نہ کرسکی جبکہ ایران کی قومی ٹیم نے 6 گول دے کر اس کو ہرادیا۔
آزادی اسٹیڈیم میں تقریبا 75 ہزار فٹبال شائقین موجود تھے جن میں ایک خاصی تعداد ان انقلابی نوجوانوں کی تھی جو بحرین کی مظلوم قوم کی حمایت کررہے تھے اور انھوں نے بحرین کے محروم کھلاڑیوں کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن میں بحرینی عوام کی حمایت کے حوالے سے نعرے درج تھے۔
فٹ بال شائقین نے بحرین کے "مسٹر گول" علاء حبیل کی بڑی بڑی تصویریں اٹھا رکھی تھیں جن پر لکھا تھا: Why A'ala Hobail was not invited
پلے کارڈز پر لکھا تھا: "آل خلیفہ یا صہیون؛ جیش محمد (ص) قادمون"۔ (آل خلیفہ اے صہیونیو! محمد (ص) کی فوج عنقریب پہنچ رہی ہے)، "الشعب یرید اسقاط آل خلیفہ" (قوم آل خلیفہ کی سرنگونی چاہتی ہے)، "بأي ذنب قتلت"۔
نوجوانوں نے بحرین کے شہداء کی تصویریں بھی اٹھا رکھی تھیں۔
بحرینی قوم کے حزب اللہی نوجوانوں نے متحد الشکل لباس زیب تن کیا ہوا تھا جس پر "میدان اللؤلؤۃ" کا خاکہ دکھائی دے رہا تھا اور اس پر یہ نعرہ بھی درج تھا: "المقاومة لن تدمر أبداً" (مزاحمت کبھی منہدم نہیں ہوا کرتی)۔
ــ بحرینی فٹ بال کیمپ میں شدید اختلافات
بحرین کی قومی ٹیم کے کیمپ سے لیک ہونے والی خبروں کے مطابق بحرینی ٹیم کے بعض کھلاڑی گراؤنڈ میں حاضر ہونے کے لئے تیار نہیں تھے اور بعض حتی ایران میں سیاسی پناہ لینے کے بارے میں بحث کررہے تھے اور یہ مسئلہ ٹیم میں اختلاف کا باعث بن گیا تھا۔
یادرہے کہ ٹیم کے ساتھ آنے والے افراد کی تعداد معمول سے کہیں زیادہ ہے اور ان میں اکثریت کا تعلق آل خلیفہ کے خاندان یا اس خاندان کے وفاداروں سے ہے اور یہ لوگ درحقیقت آل خلیفہ کے سیکورٹی اہلکار ہیں۔ یہاں تک کہ ہر کھلاڑی کے ساتھ دو افراد مستقل طور پر رہتے ہیں اور ان سے الگ نہیں ہوتے اور انہيں کسی سے بات نہیں کرنے دیتے۔
کہا جاتا ہے کہ آل خلیفہ حکومت کل رات ہونے والے میچ پر نہایت حساسیت کے ساتھ نظر رکھی ہوئی تھی اور وہ اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کرسکی ہے کہ ممکن ہے بعض کھلاڑی ایران سے سیاسی پناہ کی درخواست کردیں۔ آل خلیفہ حکمرانوں نے ٹیم کے ہمراہ سیکورٹی کے تیس اہلکار تہران روانہ کئے تھے جن کو کھلاڑیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے برتاؤ کا پورا اختیار دیا گیا تھا۔ وہ بحرینی کھلاڑیوں کی حرکات و سکنات کی نگرانی کررہے تھے۔
ــ ابنا کے نامہ نگار کے سوالات اور بحرینی ٹیم کے کوچ کے عجیب و غریب جوابات
بحرینی ٹیم میچ ہارگئی اور ایرانی ٹیم چھ گولوں سے کامیاب ہوئی تو دونوں ٹیموں کے کوچ نیوز کانفرنس کے لئے پہنچے جہاں ابنا کا خبرنگار بھی موجود تھا۔
مختلف ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے اپنی پسند کے سوالات پوچھے اور ابنا کے نامہ نگار کی باری آئی تو انھوں نے پوچھا:
آپ نے اس میچ کے لئے فٹبال کی تاریخ کے مشہورترین بحرینی کھلاڑی اور اس ملک کے "مسٹرگول"، "علاء الحبیل" کو کیوں نہیں بلایا؟
بحرینی ٹیم کے انگریز کوچ نے دعوی کیا: میں علاء حبیل نامی کسی بھی شخص کو نہيں جانتا!۔
یاد رہے کہ علاء الحبیل بحرین کے مشہور ترین فٹ بالر ہيں جنھوں نے بحرین کے لئے 68 بین الاقوامی میچوں میں شرکت کی ہے اور 24 گول کئے ہیں، 2004 میں ایشین کپ فٹبال کے مقابلوں میں "مسٹر گول" رہے اور بحرینی فٹبال کی تاریخ کے سب سے بڑے کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں لیکن آل خلیفہ کے مظالم کے خلاف بحرینی عوام کے انقلاب میں شرکت کی آل خلیفہ کے گماشتوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تشدد اور ٹارچر کا نشانہ بنے اور FIFA کے دباؤ پر رہا کردیئے گئے لیکن انہيں قومی ٹیم میں کھیلنے سے محروم کردیا گیا اور اس کا نتیجہ یہ رہا کہ یہ ٹیم حتی ایک گول کئے بغیر 6 گولوں سے ہارگئی۔
ابنا کے نمائندے نے پوچھا: کیا علاء حبیل کو فنی امور کی بنا پر ٹیم میں شمولیت کی دعوت نہیں دی گئی یا اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے حکومت کے خلاف مظاہروں میں شرکت کی تھی؟
پیٹر ٹیلر ابتداء میں تو خاموش رہے لیکن جب ایک دوسرے نامہ نگار نے یہی سوال دہرایا تو انھوں نے کہا: "میں علاء حبیل" کو بالکل نہیں جانتا!"۔
ابنا کے نام نگار نے کہا: کیا آپ کا یہ نہیں خیال کہ آج کے میچ میں بحرینی ٹیم کی کمزور پوزیشن کا سبب حکومت بحرین سے کھلاڑیوں کی ناراضگی اور بحرین کی موجودہ صورت حال سے ان کی فکرمندی کا نتیجہ تھی؟
تو ٹیلر نے کہا: میں اس سوال کا جواب نہیں دینا چاہتا!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110






۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110