10 اکتوبر 2011 - 20:30

اسلامي جمہوريہ ايران نے کہا ہے کہ امريکا ، شام کے مسئلے کو اٹھا کر علاقے کي عوامي تحريکوں کا رخ موڑنے کي کوشش کررہا ہے وزارت خارجہ کے ترجمان رامين مہمان پرست نے امريکا صيہوني حکومت کے مفادات کے تحفظ کے سوا اور کچھ بھي نہيں سوچتا -

ابنا:اسلامي جمہوريہ ايران کي وزارت خارجہ کےترجمان رامين مہمان پرست نے ماسکو ميں ريانووستي نيوزايجنسي ميں ايک پريس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطي کي دو وجوہات اقتصادي اور فلسطين و بيت المقدس کي بنا پر خاص اہميت ہے اور امريکا کي ہميشہ يہ کوشش رہي ہے کہ وہ اپني مرضي کا ايک مشرق وسطي تشکيل دے اور وہ اپنے اس مقصد کي تکميل کي راہ ميں آنے والے ہر ملک کا مقابلہ کرنے کي کوشش کرتا ہے وزارت خارجہ کے ترجمان نے صيہوني حکومت کے لئے امريکي حمايت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امريکا صرف صہيوني حکومت کے مفادات کے تحفظ کے بارے ميں ہي سوچتا ہے اور اس کے علاوہ اس کو کسي اور چيز کي فکر نہيں رہتي اور جو کچھ شام ميں ہورہا ہے اور جس کے دوران شام کے دو ہزار سيکورٹي اہلکار مارے گئے وہ سب اس لئے ہے کہ اسرائيل کے مقابلے ميں مزاحمتي قوتوں کو کمزور بناياجائے اسلامي جمہوريہ ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بنابريں علاقے کے ملکوں کے پاس اس کے علاوہ اور کوئي چارہ نہيں ہے کہ وہ آپس ميں متحد ہوں اور پوري طاقت کے ساتھ سازشوں کامقابلہ کريں وزارت خارجہ کے ترجمان نے علاقے ميں جاري تحريکوں کے بارے ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے موقف کي وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تہران ان واقعات سے پراميد ہے اور ان تحريکوں کو عوام کي تحريک سمجھتا ہے انہوں نے کہاکہ ايران سمجھتا ہے کہ ان تحريکوں کے وجود ميں آجانے سے علاقے ميں امريکا کے لئے کوئي جگہ نہيں ہوگي وزارت خارجہ کے ترجمان نے روس ميں ولاديمير پوتين کے ممکنہ طور پر دوبارہ صدر منتخب ہونے کے تعلق سے ايران کے موقف کے بارے ميں پوچھے گئے ايک سوال کے جواب ميں کہاکہ روس کي عظيم قوم جس شخص کو بھي اپنا صدر منتخب کرے گي وہ يقيني طورپر ايران کے لئے قابل احترام ہوگا وزارت خارجہ کے ترجمان نے ايران کو روس کي جانب ايس تين سو ميزائيل کا سودا منسوخ کئے جانے اوراس سلسلے ميں ايران کي شکايت کے بارے ميں ايک سوال کے جواب ميں کہا کہ يہ معاہدہ ايک تجارتي معاہدہ تھا جس کي شرائط واضح تھيں اور اب بھي معاہدے ميں درج تمام پہلوؤں کے مدنظر اس سودے کے بارے ميں کوششيں جاري ہيں انہوں نے کہا کہ البتہ اس مسئلے سے ايران اور روس کے تعلقات پر کوئي منفي اثر مرتب نہيں ہوا ہے اور نہ ہوگا-ترجمان نے کہا ليکن ابھي تک ہم يہ نہيں سمجھ سکے کہ روس نے يہ ميزائيل جو محض دفاعي مقاصد کے لئے تھے کيوں ہميں نہيں دئے اسلامي جمہوريہ ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے فلسطين مقبوضہ علاقوں ميں اس نام سے ايک آزاد رياست کے قيام کے بارے ميں کہاکہ فلسطين ہميشہ ايران کي خارجہ پاليسي ميں سرفہرست رہا ہے انہوں نے کہا کہ جب تک امن منصوبوں ميں فلسطينيوں کے معمولي سے بھي حقوق کو نظر انداز کيا جاتا رہے گا اس وقت تک کوئي بھي نتيجہ نہيں نکلے گا ......../169