ابنا: آج پارلیمنٹ کا اجلاس ایک دن کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا تو کوئٹہ سے ایم این اے ناصر علی شاہ نے اختر آباد واقعے کے خلاف اپنا احتجاج بدستور جاری رکھا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر دھرنا جاری رکھا ہو ا ہے۔ یاد رہے کہ ان کے مطالبات میں بلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ اور بلوچستان اسمبلی کے الیکشن شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وزیراعلٰی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے حالات بہتر ہو گئے ہیں۔ اگر یہ حالات بہتر ہو گئے ہیں تو مجھے بتائیں کہ کوئٹہ ائیرپورٹ سے صرف 5 کلومیٹر کا فاصلہ وزیراعظم صاحب نے ہیلی کاپٹر میں کیوں طے کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت بے حس ہو چکی ہے اور کسی قسم کی خیر کی امید ان سے نہیں رکھی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کوئٹہ میں بہنے والے خون کا تذکرہ اسمبلی کے فلور پر چیخ چیخ کر کیا، لیکن کوئی مداوا نہ ہوا، اس لئے احتجاج کا راستہ اپنانا پڑا۔ اس احتجاج کے دوران ایم کیو ایم کے فاروق ستار نے ناصر علی شاہ سے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا اور ناصر علی شاہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ واقعی جراتمند انسان ہیں، آپ نے حکومت میں ہوتے ہوئے ایسا اقدام کیا، ہم آپ کو سلام پیش کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110