8 اکتوبر 2011 - 20:30

واشنگٹن کے خلیج فارس کے امور کے ادارے کے ڈائریکٹر نے کہا: مدینہ منورہ کی مسجد النبی (ص) میں الحذیفی کا خطاب اس ملک کے اہل تشیع کی توہین ہے۔

اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں پرشین گلف افئرز انسٹٹیوشن کے ڈائریکٹر علی الاحمد نے ہفتے کے روز العالم سے بات چیت کرتے ہوئے مسجد النبی (ص) کے توہین آمیز خطاب جمعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس نے اہل تشیع پر رافضیت کا الزام لگایا اور نہایت توہین آمیز انداز سے اہل تشیع کو عراق ہجرت کرنے کا مشورہ دیا۔ الاحمد نے کہا: مدینہ منورہ کے خطیب جمعہ نے نماز جمعہ کے خطبوں میں ایران کے خلاف تکفیری لب و لہجہ اپنایا اور ایران کے خلاف عجیب انداز سے اظہار خیال کیا۔  اور اسلامی تعاون تنظیم سے کہا کہ وہ اجلاس تشکیل دے اور ایران کی رکنیت منسوخ کرے۔انھوں نے کہا: الحذیفی ایک کاغذ سے تقریر کررہا تھا اور بالکل واضح تھا کہ اس نے یہ تقریر خود نہیں لکھی کیونکہ اس کو عبارت پڑھنے میں مشکل ہورہی تھی اور کئی الفاظ پڑھنے سے عاجز تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تقریر درحقیقت ایک باضابطہ سرکاری تقریر تھی جو اس کو پڑھنے کے لئے دیا گیا تھا۔  انھوں نے کہا کہ آل سعود کی بنیادی پالیسی عوام کی تقسیم اور افتراق اور انتشار پھیلانے پر استوار ہے؛ مسئلہ صرف فرقہ وارانہ امتیاز ہی نہیں ہے بلکہ آل سعود کی بنیاد ہی فرقہ وارانہ، قبیلہ پرستانہ اور علاقائی اور جغرافیائی تعصبات پر مبنی ہے۔ الاحمد نے کہا: آل سعود کی حکومت قبائل کو پسماندہ اور غیرتہذیب یافتہ سمجھتی ہے جبکہ قبائل بڑی اہلیتوں اور صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ انھوں نے کہا: سعودی حکومت انتہاپسند اور سازشوں پر استوار ہے اور وہ جزیرة العرب کے تمام عوام کو اپنا دشمن سمجھتی ہے۔سعودی بادشاہ کے بیٹوں کی اربوں ڈالر کی بدعنوانیالاحمد نے کہا: آل سعود کی حکمرانی گذشتہ ایک صدی کے دوران عوام کو غریب و نادار رکھتے اور عوام کو کچلنے کی پالیسی پر استوار رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس حکومت کی ناکامیاں اور بدعنوانیاں بدستور جاری ہیں، بدعنوانی کی انتہا ہوگئی ہے اور قومی دولت کی چوری کی مقدار اعداد و شمار کی حدود سے تجاوز کرگئی ہے۔ انھوں نے کہا: عبداللہ بن عبدالعزیز کے بیٹے لاکھوں بیرل تیل بلیک مارکیٹ میں فروخت کررہے ہیں اور انھوں نے پیرس اور دوسرے شہروں میں کروڑوں سعودی ریال کی لاگت سے اپنے لئے ذاتی ہوٹل خرید لئے ہیں۔ آل سعود کے محلات کی تعداد سرکاری اسکولوں کی تعداد سے زیادہانھوں نے کہا: آل سعود کی پالیسیوں کی وجہ سے اسی فیصد عوام کے پاس ذاتی مکان نہیں ہے، 60 فیصد اسکول کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں، صحت و حفظان صحت اور تعلیم کی صورت حال نہایت خراب ہے، جبکہ مسلط حکام کے محلات کی تعداد سرکاری اسکولوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اور اگرسعودی عوام کی زندگی کا خلیج فارس کی دیگر ریاستوں کے عوام کی زندگی سے موازنہ کیا جائے تو بخوبی واضح ہوجائے گا کہ سعودی عوام غریب اور تنگدست ہیں۔الاحمد نے کہا کہ حال ہی میں سعودی فورسز کے بعض اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں اور انہیں ملٹری اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنے رفقائے کار کی گولیوں سے زخمی ہوئے ہیں کیونکہ انہیں فوجی چھاؤنی کے اندر ہی گولیاں لگی ہیں۔ الاحمد نے کہا: جو کچھ سعودی عرب میں رونما ہورہا ہے درحقیقت انسانی کرامت کے خلاف تجاوز اور جارحیت ہے اور سعودی حکمران اس تجاوز کا ارتکاب کررہے ہیں اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان کا مقدر بھی دوسرے مطلق العنان حکمرانوں کے مقدر سے مختلف نہیں ہے۔آل سعود کی حکومت مغرب کی کٹھ پتلیانھوں نے کہا: آل سعود کی حکومت امریکہ سے وابستہ ہے اور اس کی بنیاد اجنبی حکومتوں بالخصوص برطانیہ کی غلامی اور ان کی پالیسیوں کے مطابق عمل کرنے پر استوار ہے۔انھوں نے نجد و حجاز میں آل سعود کے خلاف اٹھنے والی تحریک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عوام بیدار ہیں اور آل سعود حکومت کے خاتمے اورملک میں بنیادی تبدیلیوں پر متفق القول ہیں چاہے وہ العوامیہ کے عوام ہوں یا القصیم کے عوام ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110