ابنا: اسماعيل ہنيہ نے اتوار کے دن ويڈيو کانفرنس کے ذريعے تہران ميں منعقدہ ملت فلسطين کي حمايت ميں پانچويں بين الاقوامي کانفرنس سے تقرير کرتے ہوئے کہا کہ آج سازباز کےمذاکرات کو دس سال کا عرصہ مکمل ہونے کے بعد ثابت ہوگيا ہےکہ مقبوضہ فلسطيني سرزمينوں کي آزادي کے سلسلے ميں مذاکرات اور سياسي راہ حل سودمند نہيں ہيں- اسماعيل ہنيہ نے مزيد کہا کہ فلسطيني عوام اپنا حق حاصل کرنے اور فلسطيني سرزمينوں کي آزادي کے خواہاں اور پابند ہيں اور وہ فلسطيني سرزمينوں کے ايک بالشت حصے سے بھي دستبردار نہيں ہوں گے-
فلسطين کے منتخب وزير اعظم اسماعيل ہنيہ نے اس بات پر تاکيد کي کہ فلسطيني عوام مسلمانوں کي ميراث کي حيثيت سے مسجد الاقصي کو نظر انداز نہيں کريں گے اور وہ صہیوني ریاست کو تسليم کئے بغير تمام فلسطيني سرزمينوں کي آزادي کے خواہاں ہيں - اسماعيل ہنيہ نے مزيد کہا کہ مسئلہ فلسطين کا واحد حل استقامت ہے اور فلسطيني اپني استقامت کے ذريعے ہي صہیونيوں کے چنگل سے فلسطيني سرزمينوں کو آزاد کرا سکتے ہيں-.......
/169