ابنا: ایک انٹرویو کے دوران صدر اوباما نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون برقرار رکھا جائے گا لیکن اس کے ساتھ پاکستان پر یہ دباوٴ برقرار رکھا جائے گا کہ وہ اپنی سرحدوں کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرے۔ اوباما کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون کی بدولت القاعدہ کے خلاف کارروائیوں میں بہت مدد ملی۔ امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات ویسے نہیں ہیں جیسے ہونا چاہیے تھے لیکن ہم انہیں یہ بتاتے رہیں گے کہ دہشت گردوں کو پاکستانی سرزمین پر کام کرنے سے روکنا صرف امریکا نہیں بلکہ خود پاکستان کے حق میں بھی ہے۔ صدر اوباما کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان رابطوں پر انٹیلی جنس پوری طرح واضح نہیں۔ اس کے باوجود صدر اوباما نے زور دیا کہ پاکستان کو حقانی نیٹ ورک کا مسئلہ حل کرنا ہوگا۔ ............
/169