27 ستمبر 2011 - 20:30

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررين کا کہنا تھا کہ بہادر ليڈر شپ اور خدا پر کامل يقين کے بغير کوئي بھي تحريک کامياب نہيں ہوسکتي۔

ابنا: دنيا اس وقت انسانيت کے نام پر مظلوم طبقوں کو کھوکھلے نعروں کے ذريعے اپني جانب متوجہ کررہي ہے، لیکن اب عوام بیدار ہیں. اسلام آباد ميں مجلس وحدت مسلمين کے زير اہتمام منعقدہ سیمینار بعنوان عالمی اسلام کی بیداری اور ہماری ذمہ داری سے خطاب کرتے ہوئے شام میں رہبر جہاں حضرت آيت اللہ سید علی خامنہ اي کے نمائندہ خصوصي آيت اللہ مجتبيٰ حسيني کا کہنا تھا کہ عرب دنيا ميں جاري اسلامي تحريکوں کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہيں اور شکست وريخت کا شکار مغرب اور امریکہ اپني شرمندگي مٹانے کيلئے اِن تحريکوں کو انساني حقوق کا نام ديکر اس کي حمايت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا نے دیکھا کہ امریکہ کس طرح سے عوام کو فریب دینے کی کوشش کرتا ہے، کہیں پر عوامی انقلاب کو سپورٹ تو کہیں پر اپنے پٹوں حکمرانوں کو سپورٹ کرتا ہے، جہاں دیکھتا ہے کہ اس زرخرید لوگوں کا خاتمہ ہورہا ہے تو کہتا ہے کہ امریکہ عوام کے ساتھ ہے، مصر میں امریکہ نے حسنی مبارک کو آخری دم تک سپورٹ کیا لیکن جب اس کے اقتدار کا خاتمہ ہونے لگا تو امریکہ نے پینترہ بدلہ اور کہا کہ وہ عوامی فیصلے کو تسلیم کرے گا، انہوں نے کہاکہ دنيا ميں ہونے والي تبديليوں کا منطقي انجام، امريکي استعماريت کا خاتمہ، فلسطين کي آزادي اور عالمي اسلامي جمہوريت کا قيام ہے۔تقريب سے خطاب کرتے ہوئے جميت علمائے اسلام ف کے رہنماء سينٹر گل نصيب نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ امریکہ کو ملک سے نکال باہر کیا جائے، حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینا ہونگے، اگر اس نادر موقع سے بھی فائدہ نہ اٹھایا گیا تو پھر قوم حکمرانوں سمیت قومی سلامتی کے اداروں کو معاف نہیں کرے گی۔ سيمينار سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین مولانا محمد خان شیرانی سمیت ديگر مقررين کا کہنا تھا کہ بہادر ليڈر شپ اور خدا پر کامل يقين کے بغير کوئي بھي تحريک کامياب نہيں ہوسکتي۔ دنيا اس وقت انسانيت کے نام پر مظلوم طبقوں کو کھوکھلے نعروں کے ذريعے اپني جانب متوجہ کررہي ہے۔اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتیس ستمبر کو ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں عوامی اُمنگوں کی ترجمانی کی جانی چاہیئے، اگر اب امریکہ کے چونگل سے نکل گئے پھر ہم کامیاب ہیں، حکمرانوں کو چاہیئے کہ غیرت و حمیت کا مظاہرہ کریں اور صحیح عوامی ترجمانی کا عملی مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان اور عراق میں شکست کھا چکا ہے۔

............

/169