27 ستمبر 2011 - 20:30

يمن کے دار الحکومت صنعا ميں جھڑپيں دوبارہ شروع ہو گئ ہيں -

ابنا: خبروں کے مطابق يہ جھڑپيں علي عبد اللہ صالح کي حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں اور سيکوريٹي فورسس کے درميان صنعا کے مرکزي علاقے اور الزاعہ روڈ پر شروع ہوئيں جبکہ تعز شہر ميں بھي پوليس نے مظاہرين پر فائرنگ کي -

درايں اثنا العربيہ ٹي وي چينل نے يمن کے ايک فوجي عہدے دار کے حوالے سے خبر دي ہے کہ علي عبد اللہ صالح کے بيٹے احمد علي عبداللہ کي کمان ميں صدارتي گارڈ اور اسپيشل فورسس عبد اللہ صالح کے نائب عبد ربہ منصور ھادي کي جانب سےاعلان شدہ جنگ بندي کي پابند ہيں -

يمن کے مختلف شہروں ميں کئ مہينوں سے اس ملک کے ڈکٹيٹر علي عبد اللہ صالح کي حکومت کے خلاف مظاہرے جاري ہيں تاہم علي عبد اللہ صالح ، عوامي مطالبات پر توجہ ديئےبغير سيکوريٹي فورسس کے ذريعے مظاہرين کي وسيع پيمانے پر سرکوبي کر رہے ہيں دريں اثنا مسلح قبائل نے فائرنگ کرکے يمني فوج کا ايک جنگي طيارہ مار گرايا ہے پريس ٹي وي کے مطابق يمني قبائل نے يہ طيارہ دارالحکومت صنعا کے مضافات ميں مارگرايا ہے ياد رہے کہ گذشتہ چند دنوں سے يمني فوج مظاہرين کو کچلنے کے لئے بھاري ہتھياروں منجملہ توپ ٹينک اور جنگي طياروں کا بھي استعمال کررہي ہے -...........

/169