27 ستمبر 2011 - 20:30

ملتان:حکومت پنجاب کے اراکین انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی خاطر کالعدم تنظیموں کے جلسوں میں شریک نظر آئے تو کبھی میڈیا کی جانب سے دوطرفہ خفیہ رابطوں کے بھی انکشافات کئے گئے.

ابنا: اہل تشیع اور اہل سنت علماء کرام اس حوالے سے اپنی تشویش و خدشات ظاہر کرتے ہوئے اکثر دیکھے جا سکتے ہیں، اب تو وفاقی وزیر داخلہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ پنجاب میں لشکر جھنگوی کے لوگ سرکاری افسروں کیساتھ گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں، اس ساری صورتحال کے باوجود حکومت پنجاب نے تادم تحریر ان تمام خدشات، الزامات اور انکشافات کی کوئی پرواہ نہیں کی، جہاں یہ باتیں سننے میں آ رہی تھیں کہ بدنام دہشتگرد ملک اسحاق کو ایلیٹ فورس کا تحفظ اور کھلی چھٹی دینا حکومت پنجاب یا مسلم لیگ ن کی کسی خفیہ ڈیل کا نتیجہ ہے وہیں صوبائی حکومت نے کالعدم تنظیموں پر ایک اور مہربانی کرتے ہوئے ان تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں کے مستقبل کا فیصلہ عدالتوں کے ذریعے کرانے کی بجائے ان کی اصلاحی تربیت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ یوں کہا جائے کے دیشتگرد اب پنجاب حکومت کے زیر سایہ تربیت حاصل کرے گے.

معلوم ہوا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان کو زندگی کے دھارے میں واپس لانے کی غرض سے ابتدائی طور پر ان کی ٹریننگ ضلع راجن پور اور بہاولپور میں ہو رہی ہے، محکمہ داخلہ پنجاب کے ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی ٹیکنیکل ٹریننگ کیلئے ضلع بہاولپور میں اٹھارہ جبکہ ضلع راجن پور میں سولہ افراد کا انتخاب کیا گیا، مذکورہ ٹریننگ کا آغاز دس جولائی 2011ء سے ہوا تھا اور یہ دس اکتوبر 2011ء کو اختتام پذیر ہو گی، پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے والوں میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ، جہاد الاسلامی، جیش محمد، حرکت الانصار اور حرکت الجہاد الاسلامی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ اس ٹریننگ پروگرام میں جو افراد حصہ لے رہے ہیں ان میں زیادہ تعداد نوجوان افراد کی ہے، شعبہ الیکٹریکل کی مفت تربیت دیے جانے کے ساتھ آٹھ سو روپیہ ماہانہ وظیفہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔

حکومت پنجاب کو کالعدم تنظیموں کے افراد کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرنا ہو گی، ملک و قوم کے مفادات کیخلاف کام کرنے والوں کو سزائیں دلوانا اور ایسی تنظیموں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا، معاشرے میں فرقہ وارنہ ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کو سبوتاژ کرنے والوں کی سازشوں کو پنپنے سے پہلے کچلنا اور عدالتوں سے بری یا ضمانتوں پر رہا ہونے والے کالعدم تنظیموں کے اراکین کے مستقبل کے حوالے سے تمام مسالک کے علماء اور سیاسی رہنمائوں کیساتھ مشاورت کے ذریعے مربوط حکمت عملی تشکیل دینا حکومت پنجاب کیلئے ناگزیر ہو چکا ہے۔ کالعدم تنظیموں کے اراکین کی حکومتی سطح پر اصلاحی تربیت ان حالات میں شاید کئی مکاتب فکر کیلئے قابل قبول نہیں ہو گی کیونکہ ان حالات میں کوئی ان کالعدم تنظیموں کے اراکین کے مستقبل کی ضمانت نہیں لے سکتا، اس حوالے سے سوچ وبچار کے بعد ہی کوئی ایسا قدم اٹھانے کی ضرورت ہے جو ملک و قوم کے مفاد میں ہو، حکمرانوں کو ایسے اسباب کا بھی تعین کرنا ہو گا کہ لوگ کالعدم اور دہشتگرد تنظیموں میں کیوں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔...........

/169