ابنا: لاہور.....امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے سالانہ کنونشن کا سب سے اہم اور آخری مرحلہ مکمل ہو گیا اور ملک بھر سے آنے والے کارکنوں نے ووٹنگ کے ذریعے آئندہ برس کے لئے بھی سید رحمن شاہ کو اپنا میر کارواں منتخب کر لیا۔ سید رحمن شاہ کراچی یونیورسٹی میں آئی آر کے طالبعلم ہیں۔ اپنے انتخاب کے بعد انہوں نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس او پاکستان اپنے وطن کے دفاع کے لئے مصروف عمل ہے اور آئندہ بھی ہم پاکستان کے دفاع کیلئے اپنے تن من دھن کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی حالیہ دھمکیاں امریکہ کی اپنی بربادی پر منتج ہوں گی۔ رحمن شاہ نے کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں موجود سی آئی اے کے تمام ایجنٹوں کو نکال باہر کرے اور امریکی سفیر کی غیر سفارتی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملت پاکستان اپنے وطن کے دفاع کے لئے جاگ رہی ہے اور اگر امریکہ نے پاکستان کیخلاف کسی جارحیت کی حماقت کی تو پاکستان کو امریکہ کے لئے قبرستان بنا دیا جائے گا۔ رحمن شاہ نے کہا کہ آئی ایس او پاکستان آئندہ سال دفاع وطن کے طور پر منائے گی اور پاکستان کیخلاف ہونے والی تمام سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملت تشیع اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ ملکی دفاع کے لئے لڑے گی، پاکستان ہمارا ملک ہے اور اس کا دفاع کرنا بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ امریکی دھمکیوں کے بعد حکومت پاکستان کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ امریکی غلامی کا طوق گلے سے اتار دے، اگر اب بھی حکمرانوں نے امریکی غلامی سے نجات کا یہ موقع کھو دیا تو پاکستان کے غیور عوام انہیں اقتدار سے بھی محروم کر دیں گے۔ رحمن شاہ نے کہا کہ پاکستان کی زمین امریکیوں پر تنگ کر دی جائے گی، امریکییوں کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ پاکستان کو چھوڑ کر نکل جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس او پاکستان کے نوجوان نظریہ ولایت فقیہ کے امین ہے اور پاکستان میں ہم نظریہ ولایت فقیہ کے دفاع کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس او پاکستان رہبر معظم سید علی خامنہ ای کا ہراول دستہ ہے اور ہم رہبر کے فرمان پر اپنی زندگیاں قربان کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ رحمن شاہ نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی توانائیاں حصول علم پر صرف کریں اور علمی و سائنسی میدان میں دشمن کو شکست دیں۔ رحمن شاہ نے میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میڈیا عوام کو اسلامی اور پاکستانی فکر دے، میڈیا مغرب سے ملنے والی سوچ کو آگے پروموٹ نہ کرے۔ آج کل کے دور میں میڈیا ایک کامیاب ہتھیار ہے لیکن افسوس کہ اس پر یہودیوں کا قبضہ ہے ہمارے میڈیا مالکان یہودیوں کے ایجنٹ نہ بنیں بلکہ پاکستان اور دو قومی نظریہ کو فروغ دیں۔ انہوں نے سانحہ مستونگ اور کوئٹہ و کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں ملت تشیع کی قتل وغارت کی بھی پرزور مذمت کی، انہوں نے کہا کہ آئی ایس او فرقہ واریت کی مخالف ہے اور پنجاب حکومت کے دہشتگردوں سے گٹھ جوڑ کی مذمت کرتی ہے۔ پنجاب حکومت دہشت گردوں کی سرپرستی کی بجائے انہیں جیلوں میں ڈالے۔ ...........
/169