21 ستمبر 2011 - 20:30

بحرين ميں حکومت مخالف مظاہرين کے نئے اقدام سے حکام اور سرکاري ذرائع ابلاغ بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہيں -

ابنا: بحرين کے سياسي کارکن جواد عبد الوہاب نے العالم ٹي وي چينل سے گفتگو ميں بتايا ہے کہ مظاہرين نے اپني گاڑيوں سے دار الحکومت منامہ کي سڑکوں کو بند کر ديا جس سے ذرائع ابلاغ بحرين ميں جاري واقعات کي رپورٹنگ پر مجبور ہو گئے جس سے مظاہرين کو کوريج نہ دينے کي حکومتي سازش ناکام ہو گئ -

بحرين ميں مظاہرين نے ، سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں پر سعودي غاصب فوجيوں اور بحريني سيکوريٹي فورس کے حملوں کے بعد ، ملک کے حالات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے منامہ کي سڑکوں پر اجتماعي طور پر اپني کاريں کھڑي کرکے آل خليفہ حکومت کو چونکا ديا ہے -

درايں اثنا بحرين کے وزير داخلہ نے مظاہرين کي جانب سے احتجاج کے اس نئے طريقے پر شديد رد عمل ظاہر کرتے ہوئے خبر دار کيا ہے کہ شہر کے اہم چوراہوں پر کاريں کھڑي کرنے کے اس اقدام ميں شريک ہونے والوں کے خلاف شديد کارروائي کي جائے گي اور ، قيد ، ڈرائيونگ لائنس کي منسوخي اور کار کو ايک سال تک ضبط کئے جانے جيسي سزائيں دي جائيں گي -بحرين کي حکومت نے حاليہ مہينوں ميں تشدد و خوف ہراس پھيلا کر عوامي احتجاج کو دبانے کي کوششيں تيز کر دي ہيں. ............

/169