ابنا: سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ازخود نوٹس کیس کے عبوری حکم نامے کے تحت نگران ججوں کے پاس آئی جی سندھ واجد علی درانی، اے آئی جی سعود مرزا اور ڈی آئی جیز پیش ہوئے۔جسٹس سرمد جلال عثمانی نے یومیہ رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں روزانہ کے جرائم کی رپورٹ نہیں چاہیئے۔اور آئی جی سندھ کو حکم دیا کہ یہ معلومات فراہم کی جائے کہ کتنے لوگوں کو چالان کیا گیا کتنے لوگوں کو پولیس کے حوالے اور کتنوں کو جیل بھیجا گیا اور کتنے مقدمات میں پیش رفت ہوئی۔جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہاکہ یہ معلومات چاہیں کہ پولیس نے جرائم کے سدباب کے لیے کیا اقدامات کیے اور پیش رفت کیا رہی۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم یہ معلومات اس لیے چاہتے ہیں کہ پولیس میں ان کالی بھیٹروں کا پتہ چلائیں جو اپنی فرائض انجام نہیں دیتے۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ اگر دو چار مہینے صیح طریقے سے تفتیش اورمقدمات صیح چلائیں اور ملزمان کو سزائیں ہو تو اصل کامیابی یہی ہوگی۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ لارجربینچ کی کاروائی کے دوران تین قتل کے مقدمات کا کھوج لگایا گیا جو ایک کامیابی تھی۔جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دئیے کہ پولیس تمام سیاسی مصلحتوں سے آزاد ہوکر ملزمان کے خلاف کارروائی کرے ۔جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ ہمیں اس طرح کی تفتیش چاہیے جیسے سانحہ سیالکوٹ میں کی گئی۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ پولیس میں بھرتی کا عمل شفاف بنائیں۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے آئی جی سندھ کو حکم دیا کہ آے ایس آئی کی خالی اسامیوں کو پر کریں۔
...............
/169