اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ نے اسلامی بیداری کانفرنس سے خظاب کیا؛ خطاب کا متن درج ذیل ہے:
بسماللَّهالرّحمنالرّحيمالسّلام عليكم و رحمةاللَّه و بركاتهالحمدللَّه ربّ العالمين و الصّلوة والسّلام على سيّدنا محمّد و آله الطّيّبين و صحبة المنتجبين.قال اللَّه العزيز الحكيم: بسماللَّهالرّحمنالرّحيم. «يا أيّها النّبىّ اتّق اللَّه و لا تطع الكافرين و المنافقين انّ اللَّه كان عليماً حكيماً. واتّبع ما يوحى اليك من ربّك انّ اللَّه كان بما تعملون خبيراً. و توكّل علىاللَّه و كفى باللَّه وكيلاً».(1)
میں حاضرین گرامی اور عزیز مہمانوں کو خوشامدید کہتا ہوں۔ جس چیز نے ہمیں یہاں مجتمع کیا ہے وہ اسلامی بیداری ہے؛ یعنی مسلم امہ میں برانگیختگی اور آگہی کی کیفیت جو حال حاضر میں اس علاقے کی اقوام میں وقوع پذیر ہوئی ہے اور ایسی تحریکوں اور انقلابوں کا باعث بنی ہے جو ہرگز علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مسلط شیطانوں کے حساب کتاب میں تصور نہیں کئے جاسکتے تھے؛ ایسی عطیم تحریکیں جنہوں نے استبداد اور استکبار کے حصاروں کو ویراں کردیا اور ان حصاروں کی تحفظ پر مامور قوتوں کو مغلوب اور مقہور کرچکی ہیں۔اس میں شک نہیں ہے کہ عظیم معاشرتی تبدیلیاں ہمیشہ سے تاریخی اور تہذیبی سرمایوں کے سہارے رونما ہوتی ہیں اور یہ معرفتوں اور تجربات کی کی کثافت (Density) کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ حالیہ ڈیڑھ سو برسوں کے دوران مصر، عراق، ایران اور ہند نیز دوسرے افریقی اور ایشیائی ممالک سے تحریکیں اٹھانے والی عظیم فکری اور جہادی شخصیات کی موجودگی، دنیائے اسلام کی موجودہ صورت حال کا پیش خیمہ ہے۔جس طرح کہ 1950 اور 1960 کے عشروں میں بعض ممالک کی تبدیلیاں ـ جو غالبا بعض ملکوں میں مادی تفکرات و نظریات پر مبنی حکومتوں کے قیام پر منتج ہوئیں ـ اور اپنی مادی فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق تھوڑا عرصہ گذرجانے کے بعد استکباری اور استعماری قوتوں کے پنجوں میں گرفتار ہوگئیں، بھی اپنی جگہ سبق آموز تجربات ہیں جنہوں نے آج کی دنیا میں عمومی اور گہرے افکار کے معرض وجود میں آنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایران میں کبیر اسلامی انقلاب کا واقعہ ـ جس میں عظیم امام خمینی کے بقول "خون نے شمشیر پر فتح پائی" اور اس کے نتیجے میں جاویدان و مقتدر، شجاع اور آگے کی جانب بڑھنے والے اسلامی جمہوری نظام کے قیام پر منتج ہوا ـ اور آج کی اسلامی بیداری میں اس کا اثر اور کردار، بھی اپنی جگہ ایک مفصل اور قابل بحث و تحقیق قابل داستان ہے جو یقینی طور پر عالم اسلام کے حال حاضر کی تحلیل و تجزيئے اور تاریخ نگاری کے سلسلے میں بہت اہم ابواب کو اپنے سے مختص کرے گی۔ نتیجہ یہ کہ عالم اسلام میں بڑھتے ہوئے موجودہ حقائق تاریخی جڑوں اور سماجی اور فکری پس منظر سے الگ تھلگ حقائق نہیں ہیں چنانچہ دشمن اور سطح سوچ کے حامل افراد اس کو گذرنے والی لہر اور سطحی سا واقعہ قرار دینے کے قابل نہیں ہیں اور اپنے غرض آلود انحرافی تجزیوں سے اقوام کے دلوں میں روشن ہونے والی امید کی شمع نہیں بجھا سکتے۔میں یہاں اس برادرانہ خطاب میں تین بنیادی نقطوں کی جانب اشارہ کرکے ان پر بحث کرنا چاہوں گا:1- ان تحریکوں کے تشخص اور ان کی ہویت پر ایک اجمالی نگاہ2۔ ان تحریکوں کو درپیش خطرات اور آفتیں3۔ ان آفتوں اور خطرات کا علاج اور سد باب کرنے کے لئے تجاویز
۔۔۔
1- ان تحریکوں کے تشخص اور ان کی ہویت پر ایک اجمالی نگاہپہلے موضوع میں، میری نظر میں ان انقلابوں میں اہم ترین عنصر، میدان عمل اور جدو جہد و جہاد کے میدان میں عوام کی حقیقی اور عمومی موجودگی ہے جو نہ صرف دل اور عزم و ارادے اور ایمان کے ساتھ بلکہ اپنے جسم و تن کے ساتھ حاضر و موجود ہیں۔بہت بڑا فرق ہے اس موجودگی اور ان تحریکوں کے درمیان جو ایک فوجی یا حتی مسلح جدوجہد کرنے والے گروپ کے توسط سے ـ عوام کی مکمل بے اعتنائی اور بے رخی کے سامنے ـ شروع ہوتی ہیں یا حتی عوام بھی ان کے قیام سے راضی ہوتے ہیں [لیکن اس قیام میں خود حاضر نہیں ہوتے]۔ افریقہ اور ایشیا کے بعض ممالک میں 1950 اور 1960 کے عشروں میں انقلابوں کا بھاری بوجھ عوام کے مختلف طبقات اور متعلقہ ملکوں کے تمام گوشوں سے نوجوان طبقوں کی بجائے، کودتا اور فوجی انقلاب کرنے والے مسلح گروپوں یا چھوٹے اور محدود مسلح گروہوں نے اٹھایا۔ انھوں نے عزم کیا اور عمل کیا اور پھر جب انھوں نے بذات خود یا ان کے بعد آنے والی نسلوں نے قابل بیان اور متعینہ محرکات کے زیر اثر اپنا راستہ تبدیل کیا تو یہ انقلاب اپنے خلاف تحریکوں میں بدل گئے اور دشمنوں نے ایک بار پھر ان ملکوں پر غلبہ اور تسلط پایا۔ یہ اس تبدیلی سے بالکل مختلف ہے جس کی ذمہ داری عوام کے تمام طبقوں نے اپنے دوش پر لی ہے اور عوام ہی جسم و جان لے کر میدان میں آتے ہيں اور مجاہدت اور قربانیوں سے دشمن کو میدان چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہاں عوام ہی نعرے بناتے ہیں، اہداف کا تعین کرتے ہیں، دشمن کو پہچان لیتے اور اس کا تعاقب کرتے اور دوسروں کو بھی اس کا پتہ دیتے ہیں، مطلوبہ مستقبل کی تصویر کشی کرتے ہیں خواہ یہ تصویر کشی اجمالی صورت میں ہی کیوں نہ ہو، اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ عوام ساز باز کرنے والے آلودہ خواص [دشمن سے وابستہ سیاستدانوں، جرنیلوں، افسروں اور نام نہاد راہنماؤں] اور بطور خاص دشمن کے اندرونی ایجنٹوں کو انحراف اور دشمن سے ساز باز کرنے اور انقلاب کا راستہ تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ عوامی انقلاب میں عین ممکن ہے کہ انقلاب کا کام تاخیر سے انجام پائے لیکن یہ سطحی سوچ و فکر اور عدم استحکام سے دور ہے؛ ایسا کلمۂ طیبہ ہے جو کلام الہی کا مصداق ہے جہاں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاء».(2) میں نے جب ٹیلی ویژن اسکرین پر مصر کی پر افتخار ملت کے پیکر کو میدان تحریر میں دیکھا تو مجھے یقین ہوگیا کہ یہ ملت کامیاب ہوگی۔ میں یہاں ایک حقیقت کو آشکار کرتا چلوں: انقلاب اسلامی کی کامیابی اور ایران کے اسلامی نظام کی تاسیس کے بعد مشرق و مغرب میں دنیا پرستوں کی حکومتوں میں بھونچال آگیا اور اس انقلاب نے مسلم اقوام کو نوظہور جوش و خروش سے دوچار کیا، ہماری توقع یہ تھی کہ مصر سب سے پہلے اٹھے گا۔ مصر کے ماضی میں جہاد اور منور الفکری نیز عظیم مجاہد اور مفکر شخصیات کی پرورش، ہمارے دلوں میں یہ توقع ابھار رہی تھی۔ لیکن مصر سے کوئی واضح صدا سنائی نہیں دے رہی تھی۔ میں دل ہی دل میں ملت مصر سے مخاطب ہوکر ابوفراس کا یہ شعر پڑھ لیا کرتا تھا:
اَراكَ عَصِيَّ الدَّمعِ شيُمتُك الصبراَما لِلهوى نهىٌ عليك و لا امرٌ
اشک تو مقابل مصائب مقاوم است و خصلت تو صبوری است. آیا دلباختگی و عاشقی هیچ تاثیری بر تو ندارد و تو را امر و نهی نمیکند؟».ترجمہ: میں تجھے دیکھ رہا ہوں تیرے آنسو مصائب کے مد مقابل ڈٹے ہوئے ہيں اور تیری خصلت صبر تحمل اور برداشت ہےکیا عاشقی اور دلباختگی تجھ پر اثر انداز نہیں ہوتی اور تجھ کو امر و نہیں نہیں کیا کرتی؟لیکن جب میں نے ملت مصر کو میدان التحریر اور دوسرے شہروں کے میدانوں اور چوراہوں پر دیکا تو مجھے میرا جواب مل گیا گویا مصری قوم مجھ سے دل کی زبان میں، کہہ رہی تھی کہ:
بَلى اَنَا مُشتاقٌ و عِندِىَ لَوعةٌ
ولكنَّ مِثلى لايُذاعُ لهُ سِرٌّ
ترجمہ: کیوں نہیں! میں اپنے دل میں مشتاق ہوں اور میرا باطن عشق و شیدائی سے سلگ رہا ہے لیکن مجھ جیسوں کے رازوں کا اعلان نہیں کیا جاتا یہ مقدس راز؛ یعنی قیام کا شوق اور عزم، رفتہ رفتہ ملت مصر میں استوار ہوا اور تشکیل پایا اور مناسب اور تاریخی لمحے میں نہایت پر شکوہ منظرہ پیش کرتا ہوا میدان میں اترا۔تیونس، یمن، لیبیا اور بحرین بھی اسی قاعدے کے تحت آتے ہیں؛ «وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا» (3)ایسے انقلابات میں اصول، اقدار اور اہداف گروہوں اور جماعتوں کے پیشگی تیار کردہ منشوروں میں نہیں بلکہ میدان میں حاضر لوگوں کے دلوں اور ان کی خواہشوں میں لکھے جاتے ہیں اور ان کے نعروں اور ان کے رویوں کی صورت میں نمایاں ہوتے اور استحکام پاتے ہیں۔ اس حساب کتاب کے ساتھ ہی آسانی سے اس بات کی تشخیص ممکن ہوجاتی ہے کہ علاقے، مصر اور دوسرے ملکوں کے موجودہ انقلابوں کے اصول پہلے درجے میں یہ ہیں: قومی عزت و عظمت اور کرامت کا احیاء اور اس کی تجدید جو آمروں کی حکمرانی اور امریکہ و مغرب کے سیاسی تسلط کے طویل عرصے کے دوران توڑ پھوڑ دی گئی ہے اور پامال ہوچکی ہے۔اسلام کا پرچم لہرانا جس سے لوگوں کی وابستگی اور ان کے دیرینہ عقیدے کا حصہ ہے، نفسیاتی امن و سکون کا حصول اور عدل و ترقی اور پنپنے کا عمل، جو اسلامی شریعت کے سائے کے بغیر ناقابل حصول ہے۔گذشتہ دو صدیوں کے دوران ان ممالک کے عوام پر سب سے زیادہ نقصان اور صدمہ اور تحقیر و تذلیل ٹھونسنے والے امریکہ اور یورپ کے اثر و رسوخ اور تسلط کے سامنے ڈٹ کر استقامت کرنا۔غاصب اور جعلی صہیونی ریاست کے خلاف جدوجہد کرنا؛ جسے بوڑھے استعمار [برطانیہ] نے اس کو علاقے کے ممالک کے پہلو میں خنجر کے طور پر گھونپ دیا ہے اور اپنی شیطانی تسلط کوجاری اور قائم رکھنے کا وسیلہ قرار دیا ہور اور ایک ملت کو اپنی سرزمین سے نکال باہر کیا ہے۔اس میں شک نہیں ہے کہ علاقے کے انقلابات ان اصولوں کے سہارے قائم اور ان اہداف کے حصول کے خواہاں ہیں اور یہ حقیقت کسی صورت میں بھی امریکہ، مغرب اور صہیونیت کے لئے قابل قبول نہیں ہے اور وہ اس حقیقت کا انکار کرنے کے لئے اپنی تمامتر کوششوں کو بروئے کار لا رہے ہیں لیکن حقیقت کا انکار کرنے سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ان انقلابوں کا عوامی ہونا، ان کے ہویت اور تشخص کا اہم ترین عنصر ہے۔ بیرونی طاقتوں کو ـ جو اپنی جدیدترین صلاحیتوں اور مکاریوں کو بروئے کار ان ملکوں میں مستبد، بدعنوان اور وابستہ حکام کو باقی اور اقتدار میں رکھنے کی کوششیں کررہی تھیں اور صرف اسی وقت ان کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا جب عوام کے قیام اور ان کے عزم نے ان کی تمام امیدیں خاک میں ملادیں ـ یہ حق نہیں پہنچتا کہ اپنے آپ کو ان انقلابوں کی کامیابی میں حصہ دار سمجھنا شروع کردیں۔ لیبیا جیسے ملک میں بھی امریکہ اور نیٹو کی مداخلت حقیقت کو مشکوک و متنازعہ بنانے کی قوت نہیں رکھتے۔ لیبیا میں نیٹو نے ناقابل تلافی الميئے خلق کئے ہیں۔ اگر نیٹو اور امریکہ مداخلت نہ کرتے، درست ہے کہ ممکن تھا کہ یہ وہاں کے عوام تھوڑی تاخیر کے ساتھ کامیاب ہوجاتے لیکن دوسری طرف سے ملک کا وسیع ب