ابنا: صدرحامدکرزئی نےروزنامہ اینڈیپنڈنٹ کوانٹرویودیتےہوئےافغانستان میں عام شہریوں کےقتل عام، اورغیرملکی کمپنیوں کی مالی بدعنوانی نیزآزادی کی تحریکوں کوگمراہ کرنےمیں امریکہ کےکردارکی جانب اشارہ کرتےہوئےفرمایاکہ وہائٹ ہاؤس کی یہ پالیسیاں اس ملک میں بدعنوانی پرمبنی اقتصادی معاہدوں کی بنیاد بنیں۔افغانستان کےصدرحامدکرزئی نےکہاکہ اگرمغربی طاقتیں افغانستان میں قیام امن کی خواہاں ہيں توانھیں چاہئےکہ افغانستان کےداخلی امورمیں مداخلت کاسلسلہ بندکردیں۔ افغان صدرنےاس ملک میں مختلف نسلوں سےتعلق رکھنےوالےعوام کی موجودگی کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہاکہ افغان حکومت اقتدارمیں تمام قوموں کی مشارکت کی خواہاں ہے۔ برطانیہ کےروزنامہ اینڈیپنڈنٹ سےانٹرویوميں افغان صدرکی جانب سےاس ملک کی حریت پسندانہ تحریکوں کوگمراہ کرنےمیں امریکہ کےکردارکی جانب واضح اشارہ امریکہ اورنیٹوپرافغان صدرکی نئی تنقیدی پالیسی کاحصہ ہے۔ حامدکرزئی نےتین مہینےپہلےبھی افغانستان کےرہائشی علاقوں پرامریکہ اورنیٹوکےفضائی حملوں کاسلسلہ جاری رہنےاورعام شہریوں کی ہلاکت میں اضافےپرتنقیدکرتےہوئےتاکیدکی تھی کہ اس قسم کاسلسلہ جاری رہنےکی صورت میں نیٹو، غاصب طاقت میں تبدیل ہوجائےگی۔امریکہ کےہاتھوں افغانوں کی حریت پسندی کی تحریکوں کومنحرف کرنےکےبارےمیں حامدکرزئی کےبیانات، ملت افغانستان کی تاریخ بالخصوص اسی کےعشرےکےاواخرمیں سویت یونین کی سرخ فوج کوباہرنکالنےاور اقتدارسےطالبان کی ہٹانےکی جدوجہد پرمرکوز ہے۔ ماہرین کاخیال ہےکہ افغانستان میں امریکہ اورنیٹوکی غلط اورتخریبی پالیسیاں اس ملک کی سیکورٹی کی صورت حال کوبحرانی کرنےکےساتھ ہی اس بات کاسبب بنی ہيں کہ عام شہریوں کاقتل عام اورغیرملکی کمپنیوں کی مالی بدعنوانی جواصل آزادی کی ماہیت کےمنافی ہے، افغان عوام اورحکومت کےلئےبہت سےمسائل پیداکردے۔
سوال یہ پیداہوتاہےکہ سرخ فوج کوافغانستان سےباہرنکالنےاوراس کامقابلہ کرنےمیں تمام افغان عوام کےعزم کےپیش نظر یہ زمین فراہم رہی ہےکہ افغان عوام عالمی برادری کی حمایت سے،امریکہ ونیٹوکی تباہ کن مداخلت کےبغیربھی طالبان کونکیل ڈال سکتےتھے۔ ایسانظرآتاہےکہ روزنامہ اینڈیپنڈنٹ کوافغان صدرکاانٹرویوافغانستان میں قیام امن کےعمل میں امریکہ اورنیٹو کےمنفی اثرات کاثبوت ہے جواس ملک کےعوام کی حریت پسندی کی تحریک کےمنافی ہے۔
............
/169