16 ستمبر 2011 - 19:30

پاکستان ميں آنے والے سيلاب اور طوفاني بارشوں سے متاثر ہونے والوں ميں بتيس فيصد خواتين ہيں جو وبائي امراض ميں مبتلا ہونے کے خطرات سے دوچار ہيں.

ابنا: برطانوي فلاحي ادارے آکسفيم نے خبردار کيا ہے کہ اگر متاثرين کوصاف پاني اور نکاسي کي سہوليات فوري طور پر مہيا نہيں کرائي گئيں تو وبائي امراض پھوٹنے کا خدشہ ہے جن ميں ہيضہ، ڈينگي، مليريا اور ہيپا ٹائٹس کي بيمارياں شامل ہيں-

آکسفيم کا کہنا ہے کہ ايسي اطلاعات ہيں کہ سيلاب زدہ افراد ميں بتيس فيصد خواتين ہيں جن ميں تقريبا ايک لاکھ حاملہ ہيں جنہيں متعدد امراض لاحق ہونے کا بہت زيادہ خدشہ ہے- اس برطانوي فلاحي ادارے نے اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ لوگ پہلے ہي گزشتہ سال کے سيلاب سے پوري طرح بحال نہيں ہو پائے تھے کہ انہيں ايک اورتباہي نے آ گھيرا ہے جس سے ان کي مزاحمت اور برداشت کرنے کي قدرتي استطاعت کو شديد دھچکا لگا ہے-

ادھر اقوام متحدہ کے سيکريٹري جنرل بان کي مون کا کہنا ہے کہ پاکستان ميں حاليہ سيلاب سے پہنچنے والا نقصان گزشتہ سال کے سيلاب کي طرح شديد ہے انہوں نے کہاکہ انہوں اس مسئلے پر پاکستان کے صدر آصف علي زرداري سے بات چيت کي ہے ـ
............

/169