12 ستمبر 2011 - 19:30

انتظامیہ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ‘ صورتحال پر توجہ نہیں دی گئی تو بیرونی قوتیں‌ فائدہ اُٹھا سکتی ہیں’ آج اسلام آباد اور کوئٹہ میں مظاہرہے ہونگے.

ابنا: ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے چیرمین عبدالخالق ہزارہ نے کہا ہے کہ ہزارہ قوم سے تعلق رکھنے والوں کی انفرادی اور اجتماعی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ دو دہائیوں سے جاری ہے صوبائی حکومت اور انتظامیہ ہزارہ قوم کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے غیر یقینی کی صورتحال نے کوئٹہ کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے صورتحال پر توجہ نہ دی گئی تو بیرونی قوتیں فائدہ اُٹھا سکتی ہیں‌ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا انہوں‌ نے کہا کہ گزشتہ دودہائیوں کے دوران ہزارہ قوم سے تعلق رکھنے والے سیکٹروں افراد شہید اور زخمی ہوچکے ہیں مگر اس کے باوجود ہزارہ قوم نے امن اور شائستگی کا دامن نہیں چھوڈا بلکہ ہمیشہ جمہوری انداز میں‌ پر امن احتجاج کیا مگر صوبائی حکومت اور انتظامیہ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہورہا.عید الفطر کے موقع پر ہزارہ قوم پر ہونےوالےخودکش حملے کا وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے اپنے دورہ کوئٹہ میں زکر تک نہیں کیا صوبائی وزیر داخلہ 23 جون 2009 کو اسمبلی فلور پر دہشت گردی کیخلاف کاروائی سے متعلق بے بسی کا اظہار کرچکے ہیں بلوچستان میں بد امنی لا قانونیت’ فرقہ واریت’ انتہا پسندی اغواء برائے تاوان’ ٹارگٹ کلنگ ‘ مسخ شدہ لاشیں ملنے کاسلسلہ جاری ہیں پورا صوبہ آگ میں جھونک دیا گیا ہے تمام جمہوری زرائع استعمال کرنے کے بعد اب جبکہ ہم نے محسوس کیا کہ ہماری باتوں اور احتجاج  کا حکومت بلوچستان پر اثر نہیں پڑرہا تو ہم نے مبجوراً اسلام آباد کا رخ کیا اور منگل کو اسلام آباد پارلیمنٹ ہاوس اور کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا جائے گا.

.............

/169