ابنا: اور اس کے مجرمانہ اقدامات پر رائے عامہ شديد برہمي کا اظہار کرتے ہوئے عالمي برادري سے مطالبہ کررہي ہے کہ وہ بحريني حکومت کے مظالم کو لگام دے مگر امريکا اور اس کي اتحادي حکومتيں بحريني حکومت کے تشدد آميز اور ظالمانہ اقدامات کي حمايت کررہي ہيںامريکا کے ذريعے جاري آل خليفہ حکومت کے مظالم کي حمايت کے تحت ہي جس سے يہ بات ثابت ہوجاتي ہے کہ بحريني حکومت امريکا کي ايک پٹھو حکومت ہے امريکا اور بحرين نے تازہ ترين خفيہ مذاکرات ميں اپنے مشترکہ دفاعي سمجھوتے کي معياد دوہزار سولہ تک بڑھا دي ہے- برطانوي ٍذرائع نے انکشاف کيا ہے کہ امريکا اور بحرين نے پس پردہ مذاکرات ميں دفاعي سمجھوتے کي ميعاد ميں دوہزار سولہ تک توسيع کردي ہے - بحرين امريکا کے پانچويں بحري بيڑے کا اڈہ ہے اور دونوں ملکوں نے دو ہزار ايک ميں دس برس کے لئے مشترکہ دفاعي سمجھوتے پر دستخط کئے تھے -
يہ ايسي حالت ميں ہے کہ اس کے ايک ہي سال بعد اس وقت کے امريکي صدر جارج بش نے منامہ کے حکام کے ساتھ اپنے خفيہ مذاکرات ميں اس بات کا ذکر کرديا تھاکہ اس سمجھوتے کي مدت مزيد بڑھا دي جائے گي - اس درميان بحرين کے ايک سياسي رہنما موسي محمد نے بحرين کے مسائل کے بارے ميں مغرب کے دوہرے معيار کي پاليسيوں پر تنقيد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب بحريني حکومت کي عوام دشمن کاروائيوں اور عوام پر آل خليفہ حکومت کے مظالم کي حمايت کررہا ہے- انہوں نے کہاکہ مغرب اپنے اس طرح کے اقدامات سے بحرين ميں بڑے پيمانے پر انساني حقوق کي پائمالي ميں بحريني حکومت کا ساتھ دے رہا ہے -
بحرين کے اس سياسي رہنما نے اس بات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ بحرين کا بادشاہ حمد بن عيسي آل خليفہ بھي ليبيا مصر اور تيونس کے ڈکٹيٹروں کي طرح عوام کے قتل عام ميں شريک ہے کہاکہ بحريني عوام آل خليفہ حکومت کو برطرف کرنے کا تہيہ کئے ہوئے ہيں اور جب تک ان کے مقاصد پورے نہيں ہوجاتے اس وقت تک بحريني عوام کے مظاہرے جاري رہيں گے -............
/169