اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے آج ایک بیان میں بحرین میں بیرونی فوجیوں اور آل خلیفہ کے کارندوں کے ہاتھوں عید فطر کے دن علی جواد الشیخ نامی جوان کی شہادت کے واقعے کی مذمت کی اور کہاکہ ہمیں ان اقدامات اور بحرین میں بیرونی افواج کی موجودگی کی وجہ سے قیام امن کی راہ میں موجود رکاوٹوں پر تشویش ہے اور کسی بھی منطق میں عید فطر کے دن ایک بچے کی شہادت کا کوئی جواز نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ بیرونی افواج بحرین میں قیام امن کے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں اور ہم اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر گذشتہ مہینوں میں رونما ہونے والے واقعات کا بروقت تدارک ہوتا اور قتل و جرم کے مرتکبین کو گرفتار کرکے سزا دی جاتی تو بحرین کی یہ صورت حال نہ ہوتی اور یہ تلخ واقعات نہ دہرائے جاتے۔
انھوں نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران ایک بار پھر بحرین میں بیرونی افواج کی موجودگی اور پر امن عوامی احتجاج کے ذریعے پیش کئے جانے والے عوام کے جائز مطالبات کو نظر انداز کئے جانے پر پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت بحرین سے مطالبہ کرتا ہے کہ ذمہ دارانہ اقدامات، اعتماد سازی اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے ملت بحرین کے مطالبات کو مد نظر رکھے اور اس ملک کے حالات کو پیچیدہ کردینے والی بیرونی افواج کی موجودگی کو ختم کردے اور حکیمانہ راہ حل تلاش کرکے حالات کو صحیح سمت کی جانب لوٹا دے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی فوجیوں کی موجودگي سے بحرین کےحالات روز بروز بگڑتے چلے جارہےہیں۔
قابل ذکرہے بحرین میں سعودی عرب کے فوجی موجود ہیں جو آل خلیفہ کے کارندوں کےساتھ مل کر ملت بحرین کے خلاف تشدد آمیز کاروائیاں انجام دے رہےہیں ان فوجیوں کی تعداد ابتداء میں ایک ہزار بتائی گئی تھی تا ہم بحرین میں آل سعود کے گماشتوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جس میں و وہابی رضاکار بھی شامل ہیں جو وہابی وعاظ السلاطین کے فتووں کے تحت اہل تشیع کو کافر سمجھتے ہيں اور ان کے قتل کو جنت میں جانے کی سند سمجھتے ہیں۔
...............
/169 - 110
1 ستمبر 2011 - 19:30
News ID: 263256
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے بحرین میں بیرونی فوجیوں کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔