26 اگست 2011 - 19:30

وزير خارجہ ڈاکٹر علي اکبر صالحي نے شام کے صدر بشار اسد کے سلسلے ميں امريکي حکام کے مطالبات کو شرمناک اور استکباري سوچ کا نتيجہ قرار ديا ہے -

ابنا: امريکي حکام شام کے صدر بشار اسد سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے ہيں ـ

وزير خارجہ ڈاکٹر صالحي نے کہا کہ امريکہ اب بھي يک قطبي نظام والي باتيں کر رہا ہے اور وہ اب بھي خود کو دنيا کا مالک سمجھتا ہےـ

وزير خارجہ ڈاکٹر علي اکبر صالحي نے کہا کہ شام ايک آزاد ملک ہے لہذا عالمي معاہدے اور عالمي کنوينشن اس بات کي ہرگز اجازت نہيں ديتے کہ کسي ملک کے حکام مداخلت پسندي کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسي دوسرے ملک کے سلسلے ميں فيصلہ کريں ـ

امريکہ کي جانب سے ايران کا نام دہشت گردي کے حامي ممالک کي فہرست ميں شامل کئے جانے کے سلسلے ميں وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے کہا کہ کون سا ايسا الزام ہے جو امريکہ نے ايران پر نہ لگايا ہوـ

انہوں نے ليبيا ميں عوامي انقلاب کي کاميابي کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اميد کرتے ہيں کہ حقيقي انقلابيوں کے ہاتھ ميں زمام مملکت ہوگي اور ملک ميں آزاد و خود مختار اور اسلامي فکر والي حکومت تشکيل پائے گي - انہوں نے کہا کہ ليبيا کے انقلابيوں کو چاہئے کہ وہ ليبيا کے دشمنوں کو يہ موقع نہ ديں کہ انہيں ناقابل تلافي نقصان پہنچائيں ـ

ايران اور مصر کے تعلقات کے سلسلے ميں وزير خارجہ صالحي نے کہا کہ مصر عالم اسلام کا ايک اہم ملک ہے جو اسلامي فکر و نظر کا مرکز ہے اور ايران مصر تعلقات ميں فروغ آنے سے علاقے کے امن و ثبات ميں مدد ملے گي ـ...........

/169