23 اگست 2011 - 19:30

مصري مظاہرين نے ايک بار پھر قاہرہ ميں اسرائيلي سفارتخانے کے سامنے احتجاجي مظاہرہ کرکے صہیوني ریاست کے ساتھ مصر کے سفارتي تعلقات منقطع کرلئے جانے کا مطالبہ کيا ہے -

ابنا: پريس ٹي وي کے مطابق مصري مظاہرين نے بدھ کو اعلان کيا کہ وہ مصرسے اسرائيلي سفير کو نکال ديئے جانے تک اسرائيلي سفارتخانے کےسامنے اپنا احتجاج جاري رکھيں گے - مصري مظاہرين نے حکومت مصرسے مطالبہ کيا ہے کہ وہ اسرائيل کے لئے گيس کي سپلائي بند کردے اور کيمپ ڈيوڈ معاہدے کو کالعدم اعلان کردے جس پر انيس سو اٹہتر ميں امريکي وساطت سے دستخط ہوئے تھے -
ياد رہے کہ اسرائيلي فوج کے ہاتھوں پانچ مصري فوجيوں کي ہلاکت کے بعد قاہرہ اور تل ابيب کے تعلقات بہت ہي کشيدہ ہوگئے ہيں اور مصري عوام کا مطالبہ ہے کہ اسرائيل کے ساتھ سفارتي تعلقات منقطع کرلئے جائيں - دريں اثنا اسرائيلي وزير جنگ ايہودا باراک نے پانچ مصري فوجيوں کي ہلاکت پر زباني معافي مانگتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کي تحقيقات کے لئے مصري فوجي ماہرين کے ساتھ ايک مشترکہ ٹيم تشکيل دينے کا حکم دے ديا گيا ہے ايہودا باراک کي يہ زباني معافي مصري حکام کے اس ردعمل کے بعد سامنے آئي ہے جس ميں کہا گيا تھاکہ اگر اسرائيل نے معافي نہ مانگي تو اس کے سفير کو مصر سے نکال ديا جائے گا -
.............

/169