قرآن کی فریادطاقوں میں سجایا جاتا ہوںآنکھوں سے لگایا جاتا ہوںتعویذ بنایا جاتا ہوںدھو دھو کے پلایا جاتا ہوںجز دان حریر و ریشم کےاور پھول ستارے چاندی کےپھر عطر کی بارش ہوتی ہےخوشبو میں بسایا جاتا ہوںجس طرح سے طوطا مینا کو کچھ بول سکھائے جاتے ہیںاس طرح پڑھایا جاتا ہوںاس طرح سکھایا جاتا ہوںجب قول و قسم لینے کیلئےتکرار کی نوبت آتی ہےپھر میری ضرورت پڑتی ہےہاتھوں پہ اٹھایا جاتا ہوںدل سوز سے خالی رہتے ہیںآنکھیں ہیں کہ نم ہوتی ہی نہیںکہنے کو میں اک اک جلسے میںپڑھ پڑھ کے سنایا جاتا ہوںنیکی پہ بدی کا غلبہ ہےسچائی سے بڑھ کر دھوکا ہےاک بار ہنسایا جاتا ہوںسو بار رلایا جاتا ہوںیہ مجھ سے عقیدت کے دعوےقانون پہ راضی غیروں کےیوں بھی مجھے رسوا کرتے ہیںایسے بھی ستایا جاتا ہوںکس بزم میں مجھ کو بار نہیںکس عرس میں میری دھوم نہیںپھر بھی میں اکیلا رہتا ہوںمجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں
ماہرالقادری
محمد تقی خان سنہ 1998 کو پاکستان کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد علاقے کے معروف علماء میں سے تھے۔ محمد تقی خان کو تین سال کی عمر میں والد کے انتقال کا غم سہنا پڑا اور اپنے بڑے بھائی محمد نقی نے ان کی تربیت کی ذمہ داری سنبھال لی۔ شاید یہ ایک یادآوری ہو اس بات کی کہ اگر ان کے اوپر والد کا سایہ نہ ہونے کی صورت میں بھی وہ لوگوں کے لئے نمونہ اور مثال بن سکتے ہیں۔ کچھ عرصہ گذرنے کے بعد یہ قرآنی نابغۂ روزگار اپنے بڑے بھائی کے ساتھ حصول علم کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران آگئے اور قم المقدسہ میں قیام پذیر ہوئے۔

محمد تقی خان 2006 کو نو سال کی عمر میں حفظ قرآن کی غرض سے جامعۃ القرآن الکریم میں داخلہ لیا اور صرف 9 مہینوں کے قلیل عرصے میں پورے قرآن کریم کے حافظ بن گئے۔ تاہم پورے قرآن کا حافظ ہونا اس نابغۂ روزگار کے لئے منزل مقصود نہ تھا بلکہ آغاز راہ تھا اور اس کے بعد ہے اس کا نبوغ گل شگوفا ہوا اور انھوں نے قرائت قرآن کے نت نئے طریقے ایجاد کئے اور عالم اسلام کے قرآنی نابغۂ دہر بن گئے۔انہیں ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں بلایا گیا اور پوچھا گیا: آپ تو اب بچے ہیں اور اللہ کے احکام آپ پر واجب نہیں ہوئے اس کے باوجود آپ نے قرآن کیوں حفظ کیا؟

انھوں نے یوں جواب دیا: میں تین سال کی عمر میں اپنے والد کے سائے سے محروم ہوا چنانچہ میں نے چاہا کہ کوئی ایسا کام کروں جس کی خیر و برکت ان کی روح مطہر کو پہنچے اور میرے خیال میں کوئی بھی ثواب ان کے لئے حفظ قرآن کریم سے زیادہ بڑا نہیں تھا۔ دلچسپ نکتہ یہ کہ: محمد تقی خان قرآن کے بارے میں مختلف قسم کے سوالات کا جواب دینے کے لئے فارسی، اردو، عربی اور انگریزی زبانوں سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ ایک دلچسپ نکتہ یہ کہ یہ قرآنی نابغۂ روزگار فارسی اور اردو میں تقریر بھی کرتے ہیں۔ محمد تقی خان نے اب تک ایران، پاکستان، عراق اور خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں میں منعقدہ 500 سے زائد قرآنی پروگراموں میں شرکت کرچکے ہیں۔ متعدد تیلی ویژن اور انٹرنیٹ مکالموں میں شرکت کرچکے ہیں اور ہزاروں افراد کو اہل بیت علیہم السلام کے نورانی مکتب کی طرف مائل کرچکے ہیں۔

محمد تقی خان کی حیرت انگیز قرآنی روشیں:محمد تقی خان 51 روشوں سے استفادہ کرکے قرآنی سوالات اور مختلف موضوعات میں شائقین کے سوالات کے جوابات دے سکتے ہیں جن میں سے بعض کی طرف یہاں اشارہ کیا جارہا ہے:1- قرآن کی سورتوں سے متعلق روشیں:الف: سورتوں کا بیان ترتیب نزول کے مطابقب: سورتوں کے مکی یا مدنی ہونے کا کا بیانج: سورتوں کے تسمئے کے اسباب کا بیاند: سورتوں کے تسمئے اور معانی کا بیانه: قرآن کے الفاظ کی تمام مفاہیم کے بیان پر کامل دسترس2 - قرآن کے صفحات سے متعلق مختلف روشیں:الف: صفحات کے شماروں کے سلسلے میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات پر مکمل عبورب: ہر صفحے کی ابتدائی آیات کی تلاوت پر مکمل دسترسج: ایک ہی آن میں مختلف صفحات کی تمام ابتدائی اور انتہائی آیات کی تلاوت پر مکمل عبور.د: کسی بھی آیت کے وسطی اور آخری حصوں کی تلاوت پر مکمل عبور۔ 3- گوناگوں موضوعات کے بارے میں مختلف روشیں: مختلف موضوعات جیسے ابلاغ (میڈیا)، اسلامی انقلاب، غدیر خم، آیت ولایت، آیت تطہیر، آیات فیئ و خمس، فدک سے متعلق آیات، معاشرتی مسائل سے متعلق آیات وغیرہ کا تعین کرنا اور ان کی تلاوت کرنا اور معانی بتانا اور شأن نزون بتانا اور آیات کی موضوع بندی کرنے پر عبور کامل۔ 4- قرآن کے ذریعے بات چیت کرنے کی روشیں:محمد تقی خان تمام روزمرہ موضوعات و مسائل سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے قرآنی آیات کو ذریعۂ تکلم بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔5- قرآن کریم کے کلمات اور حروف سے متعلق روشیں: الف: مثلاً دنیا اور آخرت یا دوسرے الفاظ قرآن مجید میں چند بار دہرائے گئے ہیں؟ب: گوناگوں کلمات کو ڈھونڈنے اور ان سے اخذ کئے جانے والے مختلف مفاہیم و معانی پر مکمل عبور6- صحابۂ کرام کی روش7- اہل بیت اطہار (ع) کی روش8- قرآن کے ترجمے کی روش:الف: قرآن کریم کے ترجمے سے متعلق پوچھے جانے والے سوالات کا جواب دینے پر مکمل عبور۔ب: ترجمے کو سامنے رکھ کر آیت قرآنی ڈھونڈنے پر مکمل عبورج: مفردات قرآن کا جواب دینے پر مکمل عبور9- آیات کے تسلسل کی روش:آیات قرآنی کے ذریعے مشاعرہ کرنے کی قوت10- اشاروں سے استفادہ کرتے ہوئے آیات قرآنی کی تلاوت پر مکمل عبور:الف: آنکھوں کو اشارہ کرکے آیات کی تلاوت۔ب: ہاتھوں کو اشارہ کرکے آیات کی تلاوت۔ج: سوال کرنے والے کا نام پوچھ کر آیات کی تلاوت کرنا: وہ سوال کرنے والے کا نام اور خاندانی نام پوچھ کر اس کے منظور نظر آیات کی تلاوت کرنے کی مکمل توانائی رکھتے ہیں۔ 11- قرآنی معماؤں کے جواب پر مکمل عبور؛ مثال کے طور پر:وہ کونسی سورت ہے جس کی ہر آیت میں نام اللہ مذکور ہے؟کونسی آیت ہے جس میں حرف "نون" 42 بار دہرایا گیا ہے؟12- اشیاء، حیوانات اور مختلف موجودات کے بارے میں آيات کی تلاوت پر مکمل عبور۔13- آیات ڈھونڈنے کی قوت:الف: آیات کے شماروں کو مدنظر رکھ کر۔ب: اس سوال کا جواب دینے پر قدرت رکھتے ہیں کہ فلاں آیت قرآن مجید میں کتنی بار دہرائی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالی عالم اسلام کے اس سرمایۂ قرآنی کی حفاظت فرمائے۔
۔۔۔۔۔۔
/110