ابنا: آیت الله محمد تقی مصباح یزدی نے اخلاقی بیان کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے آیہ شریفہ « لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِی کَبَدٍ» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : دنیا کی زندگی مشکلات اور مشقت کے ساتھ ہے ۔ مادی نکتہ نظر سے یہ مشکلات ضروری ہے اور اس کو قبول کرنا بھی ضروری ہے ۔
انہوں نے وضاحت کی : توحیدی نگاہ میں زندگی کی مشکلات عقلانی تفسیر کے ساتھ ہے ۔ یہ زندگی آخرت کی بنیاد ہے اور مختلف امتحانات کے ساتھ صلاحیتیں پرکھی جاتی ہیں ۔ پھر اس اھم امتحان میں مبتلا ہونا مشکلات اور اچھائیوں کے ساتھ ہے ۔
حوزہ علمیہ قم میں اخلاق کے اس استاد نے دنیا کو حاملہ کے زمانہ سے تعبیر کیا ہے اور بیان کیا : یہ دنیا بنیاد ہے انسان کے نمو کا عالم ابدی و آخرت میں پیدا ہونے کا مگر اس ولادت اور دنیا میں ولادت کا فرق یہ ہے کہ دنیا میں ولادت پانے میں رشد و نمو میں انسان کے اختیار میں کچھ نہی ہے مگر اس دنیا سے آخرت میں رشد و نمو پانے کے لئے انسان مختار ہے اس دنیا میں اصل کردار خود انسان کا ہے وہ خود کو تیار کرے آخرت کے لئے ۔
امام خمینی (ره) تعلیم و تربیت ادارہ کے صدر نے امام محمد باقر علیہ السلام کی روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : حضرت نفس کی راحت کو صحت تفویض میں جانتے ہیں ۔ یعنی شخص توحید پر اعتقاد کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے اور اپنے کام کے ثمرہ کو خدا پر چھوڑ دے ، نہ یہ کہ سستی یا کاھلی کے بنا پر اپنے کاموں کو خدا پر چھوڑے ۔............
/169