اہل البیب (ع) نیوز ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سیدحسن نصراللہ نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں شیعہ ـ سنی اور عیسائی ـ دروزی کے درمیان فتنہ انگیزی ہورہی ہے جس کا مقصد ملک کے سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا اور ملک میں خانہ جنگی کا آغاز کرنا ہے۔
سید حسن نصراللہ نے کل شام کو افطار کی تقریب کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج لبنان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ کسی کو بدنام کرنے کی کوشش سے بدتر ہے آج لبنان کے سماجی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں جس سے وہ ملک میں خانہ جنگی کی صورت پیدا کرنا چاپتے ہیں اور ملک میں فتنوں کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں۔ دشمن ان سازشوں کے ذریعے مزاحمت تحریک کو خانہ جنگی میں مصروف کرنا چاہتا ہے اور اس طرح اس کو نقصان پہنچانا چـاہتا ہے۔
انھوں نے شیعہ ـ سنی اور عیسائی ـ دروزی کے درمیان فتنہ انگیزی کی جاری سازش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
انھوں نے کہا: ہم بیداری، ہوشیاری اور احساس ذمہ داری کے ذریعے اس سازش کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور ہم نے اس سے قبل بھی بارہا ایسا کرکے دکھایا ہے۔
انھوں نے کہا: دشمن کا اصل نشانہ لبنان اور خاص طور پر مزاحمت تحریک ہے۔
سید حسن نصراللہ نے کہا: لبنان مختلف قبائل، اقوام اور مذاہب اور فرقوں سے تشکیل پایا ہے اور ان مذاہب اور اقوام کے درمیان تعلقات جتنے خراب ہونگے ان کے درمیان دشمنی کے اتنے ہی امکانات موجود رہیں گے اور اس وقت دشمن کی کوشش ہے کہ یہ تعلقات خراب ہوں اور ان کے درمیان دشمنی کا آغاز ہوجائے یہاں تک کہ ملک دھماکے کے نقطے تک پہنچ جائے۔
انھوں نے کہا: اس وقت مزاحمت تحریک اہل تشیع سے منسوب ہے لیکن لبنان کے تمام ادیان و مذاہب کے پیروکار اور اقوام و قبائل کے افراد اس کی حمایت کررہے ہیں اسی بنا پر دشمن کی سازش یہ ہے کہ شیعہ ـ عیسائی، شیعہ ـ سنی اور شیعہ ـ دروزی تعلقات کو نیست و نابود کرکے ہمارے ملک کو تباہ و برباد کردے۔
سید حسن نصر اللہ نے نام نہاد بین الاقوامی حریری ٹربیونل کی جانب سے فرد جرم کی اشاعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس فر جرم میں حزب اللہ کے چار نہایت شریف اراکین کو ملزم ٹہرایا گیا؛ آج اس فرد جرم کا بڑا حصہ شائع ہوگیا میں نے بہت عرصہ قبل کہا تھا کہ "وہ لوگ بڑے ہوشیار ہیں اور وہ فرد جرم شائع نہیں کریں گے" لیکن یہ صرف اللہ کی مشیت تھی کہ انھوں نے اسے شائع کردیا کیونکہ اس فرد جرم کی اشاعت سے عوام بخوبی جان جائیں گے کہ اس نام نہاد عدالت کے اقدامات کی پس پردہ حقائق کیا ہیں۔
حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا: اس رپورٹ کی اشاعت سب سے پہلے ہماری صداقت کا ثبوت ہے۔ ہم گذشتہ مہینوں میں مسلسل کہتے رہے تھے کہ مذکورہ عدالت کی تحقیقات ناقص ہیں اور اشپیگل اور دیگر عربی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ اور کینڈین ٹیلی ویژن کی کل کی رپورٹوں نے ہمارے موقف کی تصدیق کردی۔
سید حسن نصراللہ نے کہا: مزاحمت جانفشانی کے بغیر ممکن نہیں ہے؛ جب ایک قوم اپنی سرزمین واپس لینے کا عزم کرتی ہے تو اس کو جانفشانی کرنی کرنی پڑتی ہے۔
انھوں نے کہا: لبنانی عوام کی جانفشانیاں بہت عظیم اور قابل قدر ہیں؛ جب میں جانفشانی کی بات کرتا ہوں تو اس سے میری مراد صرف حزب اللہ کی جانفشانیاں نہیں ہوتیں بلکہ میری مراد لبنان میں مزاحمت کی تمام جماعتوں، قومی فوج، سیکورٹی فورسز اور لبنانی قوم کی جانفشانیاں ہوتی ہیں۔
انھوں نے کہا: جانفشانیوں کی بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم نے جو حاصل کیا ہے وہ مفت حاصل نہیں ہوا۔
حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے مزاحمت تحریک کو نشانہ بنانے کے حوالے سے غاصب صہیونی ریاست کے اقدامات اور سازشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: مزاحمت تحریک کا جرم صرف یہ ہے کہ اس نے اپنی سرزمین کی آزادی اور اپنے ملک کی پاسداری کے لئے جدوجہد کا راستہ اپنایا۔
سید حسن نصراللہ نے آخر میں کہا: سازشوں کا مقصد یہ تھا کا مزاحمت تحریک کو بدنام کیا جائے اور مزاحمت تحریک کے سلسلے میں رائے عامہ کو منحرف کیا جائے؛ حال ہی میں ہونے والے تمام اقدامات کا مقصد مزاحمت تحریک کا چہرہ بگاڑنا اور اس کو بدنام کرنا ہے لیکن حالیہ سروے رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کی یہ سازشیں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہیں اور مزاحمت تحریک بدستور لائق احترام ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110