ابنا: فرانس پریس کی رپورٹ کےمطابق ہندوستان کےوزیرداخلہ پی چدمبرم نےاس ملک کی پارلمینٹ میں بیان دیتےہوئےکہاکہ اگرچہ گذشتہ مہینےممبئی میں ہونےوالےحملےکی پولیس کےہاتھوں تحقیقات جاری ہیں لیکن شواہد سےپتہ چلتاہےکہ ایک مقامی گروہ ان دہشتگردانہ حملوں کاذمہ دار ہے۔پی چدمبرم نےمزیدکہاکہ حکومت حقائق سےچشم پوشی کرکے ممبئی حملوں میں ایک داخلی گروہ کےکردارکاانکارنہيں کرسکتی ۔گذشتہ جولائی میں ہندوستان کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں ہونےوالے دہشتگردانہ حملوں میں چھبیس افراد ہلاک اورایک سوتیس زخمی ہوئےتھےجس کی نومبردوہزارآٹھ کےدہشتگردانہ حملوں کےبعد کوئي مثال نہيں ملتی ۔ممبئی کےحالیہ حملوں کی جڑوں کےبارےمیں حکومت ہندوستان کاموقف دہشتگردانہ حملوں کےبارےمیں اس ملک کےردعمل میں سنگ میل ہے ۔اس سےپہلےتک ہندوستان میں جب بھی کوئي دہشتگردانہ کاروائی ہوتی تھی تواس کاالزام پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی یالشکرطیبہ اورجماعت الدعوہ جیسی تنظیموں پرلگایاجاتاتھا۔اس بار ماضی کےبرخلاف ، نئي دہلی حکومت نےگذشتہ جولائی میں ممبئی میں ہونےوالےحملوں کی ذمہ داری ایک داخلی چھاپہ مارگروہ پرعائد کی ہے۔ماہرین کاخیال ہےکہ دہشتگردانہ کاروائیوں کاالزا م پاکستان پرلگانےکےکاسلسلہ روکنےمیں حکومت ہندوستان کےموقف میں تبدیلی کی ایک وجہ حقائق سامنےآنےکےساتھ ہی جلدبازی سےکام لینےسےاجتناب کرنابھی ہے۔ابھی کچہ دنوں پہلےہندوستان کی خارجہ سکریٹری نیروپماراؤ نےاعتراف کیاتھاکہ دوہزارآٹھ کےممبئی حملوں کےبعد پاکستان کےسلسلےمیں ہندوستان کی پالیسی غلط تھی۔نروپماراؤ نےہندوستان کی پالیسی میں غلطی کااعتراف کرتےہوئےکہاتھاکہ دہشتگردی کےخلاف جنگ کےسلسلےمیںاس ملک کاموقف تبدیل ہوچکاہےاوراس سلسلےمیں اسلام آباد نےپیشرفت کی ہے۔ نروپماراؤ کےاس موقف سےپتہ چلتاہےکہ نئی دہلی کےحکام نےممبئی حملوں کو تقریبا تین سال کاعرصہ گذرنےکےبعد اس مسئلےمیں جذباتی رویہ اختیارکرنےاور پاکستان سےتعلقات کم کردینےکےسلسلےمیں شرمند ہے۔شاید اسی بناپردہلی میں پاکستان اور ہندوستانی کےوزرائےخارجہ کےاجلاس اور دونوں طرف کےکشمیرکےعوام کی رفت وآمد کوآسان بنانےکےسلسلےمیں ہونےوالےاہم فیصلے کےبعد ہونےوالےممبئی حملےمیں روایتی طورپر پاکستان پرالزام نہيں لگایا۔ایسا نظرآتاہےکہ حکومت ہندوستان اپنی خارجہ پالیسی میں اپنےپڑوسیوں بالخصوص پاکستان کےسلسلےمیں حقیقت پسندی اختیارکی ہے۔..............
/169