ابنا: اس موقع پر ہونے والي خصوصي تقريب سے خطاب کرتے ہوئے جاپان کے وزير اعظم ناؤ توکان نے ايک بار پھر دنيا سے ايٹمي ہيتھياروں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کيا- جاپان کے وزير اعظم نے جن کے ملک کو فوکو شيما بجلي گھر کے بحران کا سامنا ہے يہ بات زور ديکر کہي کہ اب ملک کي ايٹمي پاليسي پر نظرثاني کا وقت آگيا ہے-
انہوں نے کہا کہ جاپان کو ايک ايسے ملک ميں تبديل کرنے کي ضرورت ہے جو ايٹمي توانائي سے بے نياز ہو-
گيارہ مارچ کو آنے والي سونامي اور زلزلے کے نتيجے ميں جاپان کي فوکو شيما ايٹمي تصيبات کو زبردست نقصان پہنچا تھا اور اس سے اٹيمي مواد کا رساؤ شروع ہوگيا تھا- ہيرو شيما کے ميئر کازومي مات سوئے نے بھي اس تقريب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بحران کے آغاز کے بعد سے جاپاني عوام کو ايٹمي توانائي پر اعتماد نہيں رہا-
واضح رہے کہ پندرہ اگست انيس سو پينتاليس کو امريکي لڑاکا طيارے نے ہيرو شيما پر ايٹم بم گرايا تھا جسکے نتيجے ميں تقريبا ايک لاکھ چاليس ہزار ہلاک ہوگئے تھے جبکہ مغربي جاپان ہنستا بستا شہر کھنڈرات ميں تبديل ہوگيا تھا-
جوہري بم بنانے والے برطانيہ، فرانس ، روس اور امريکہ جيسے ملکوں سميت دنيا کے ساٹھ ممالک کے نمائندوں نے برسي کي اس تقريب ميں شريک تھے-........
/169