ابنا: علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں عوامی بیداری کی لہر اور حقوق کے تحفظ کی جدوجہد خوش آئند ہے اور خاص طو ر پر امت مسلمہ کے اندر پائی جانے والی بیداری اور سامراجی قوتوں کی جانب سے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کی تحریکیں عظمت رفتہ کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی اسی تناظر میں تاجکستان کے حالات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ایک بیان میں علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ تاجکستان کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ عوام کے مسلمہ مذہبی عقائد و نظریات اور تہذیبی اقدار کا احترام کرتے ہوئے ان کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کریں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو اس کے نتیجے میں نفرتیں اور سازشیں جنم لیں گی جس سے عالم اسلام اور امت مسلمہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے کا احتمال ہے۔
۔۔۔۔۔
/110
- تاجکستان میں غير اسلامی قوانین کی منظوری پر آیت اللہ العظمی صافی گلپائگانی کا رد عمل