3 اگست 2011 - 19:30

صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا ہے کہ ايران يورپ تعلقات پر امريکہ کو اثرانداز نہ ہونے ديا جائے-

ابنا: يہ بات انہوں نے يورو نيوز ٹي وي چينل کو اپنے خصوصي انٹرويو کے دوران کہي- صدر ڈاکٹرمحمود احمدي نژاد نے يورپي ملکوں کے ساتھ تعلقات کے فروغ کا خير مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پورپي ملکوں کو ايران کے ساتھ تعلقات ميں امريکي دباؤ ہرگز قبول نہيں کرنا چاہيے- انہوں نے کہا کہ ايران اور پورپ ايک دوسرے کے ساتھ تيکنيکي، سياسي اور تعليمي شعبے ميں بھرپور تعاون کرسکتے ہيں-

صدرمملکت نے واضح کيا کہ ايراني عوام کو اہل پورپ سے کبھي کوئي مشکل نہيں رہي اور تاحال ايران نے پورپ کو کوئي نقصان نہيں پہنچايا ہے-

صدر نے کہا کہ اسکے برخلاف بعض يورپي ملکوں نے ملت ايران کو زبردست نقصان پہنچايا ہے ليکن اسکے باوجود ملت ايران کي نگاہيں مستقبل پر لگي ہوئي ہيں- ايران کے جوہري پروگرام کے بارے ميں پوچھے گئے ايک سوال کے جواب ميں صدر کا کہنا تھا کہ يہ بات سب جانتے ہيں کہ جو لوگ يہ دعوي کررہے ہيں کہ ايران کا جوہري پروگرام فوجي مقاصد کي سمت جارہا ہے وہ مغربي سائنسداں نہيں بلکہ مغربي سياستداں ہيں- صدر نے کہا کہ مغربي سائنسداں سمجھتے ہيں کہ يورينئم کي بيس في صد افزودگي کا ايٹمي اسلحے کي تياري سے کوئي تعلق نہيں ہے- انہوں نے کہا کہ يورينئم کو بيس في صد افزودہ بنانے کا کام مخصوص دوائيں تيار کرنے والے ري ايکٹر کے لئے کيا جارہا ہے-

صدر نے کہا کہ ايران دنيا کے ان چند ملکوں ميں سے ايک ہے جنکي جوہري سرگرميان مکمل طور سے جوہري توانائي کے عالمي ادارے کي نگراني ميں انجام پارہي ہيں لہذا جب ہم يہ کہتے ہيں کہ ايران جوہري بم نہيں بنا رہا ہے تو اس ميں سچائي پائي جاتي ہے

ڈاکٹر احمدي نژاد نے يورو نيوز کے ساتھ اپنے انٹر ويوميں افغانستان کے حالات کا بھي ذکر کرتے ہوئےکہا کہ جو صورتحال اس وقت افغانستان پر حکمفرما ہے اس کا فائدہ کسي کو نہيں پہنـچے گا - انہوں نے کہا کہ افغانستان کي مشکلات کو صرف افغان عوام کے حقوق کا احترام کرکے ہي حل کيا جاسکتا ہے - صدر مملکت نے مصر کے سابق صدر حسني مبارک کے مقدمے اور اس سلسلے ميں ايران کے موقف کے بارے ميں کہاکہ بعض افراد اپني قوموں سے اپنےتعلقات خود اس قدر کشيدہ بناليتے ہيں کہ قوميں ان پر مقدمہ چلانے پر مجبور ہوجاتي ہيں جو بہت ہي افسوسناک بات ہے - صدر احمدي نژاد نے شام کے حالات کے بارے ميں کہا کہ کسي بھي ملک ميں غيرملکي مداخلت سے مسائل حل نہيں ہوتے اور مشرق وسطي کے عوام ميں اتنا شعور ہے کہ وہ اپنے مسائل خود حل کريں۔ ............

/169