ابنا: فلسطینی گروہ ستمبر کے مہینے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں آزاد ملک فلسطین کے قیام کی تجویز پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس تجویز کے مطابق یہ ملک غزہ پٹی، دریائے اردن کے مغربی کنارے اور ان علاقوں میں تشکیل پائے گا جن پر انیس سو سڑسٹھ کی چھ روزہ جنگ میں صہیونیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ صہیونی ریاست اس تجویز کی سخت مخالف ہے۔ اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ اگر فلسطینیوں نے یکطرفہ طور پر ایک آزاد ملک کے قیام کا اعلان کیا تو فلسطینیوں کے ساتھ اپنے کسی بھی معاہدے پر عمل نہیں کرے گا۔ البتہ جس چیز نے الفتح تحریک کو اپنے موقف میں تبدیلی اور ایک آزاد ملک کی تشکیل کے لیے کوشش کرنے پر مجبور کیا ہے وہ اسرائیل کا اپنے ان وعدوں اور معاہدوں پر عمل درآمد کرنے سے روگردانی کرنا ہے جو اس نے اس سے قبل فلسطینیوں کے ساتھ کر رکھے تھے۔ درحقیقت صہیونی ریاست نے مشرق وسطی میں قیام امن کے عنوان کے تحت ہونے والی ہر کوشش کو ناکام کر کے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے حامی فلسطینیوں کے موقف کو انتہائي کمزور کر دیا ہے۔مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں نے کہ جنہیں اسلامی بیداری کا نام دیا جا رہا ہے، فلسطینی گروہوں کو یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ ایک آزاد ملک کے قیام کے لیے کوشش کریں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم اتحاد تھا اور اس کے لیے الفتح اور حماس نے کہ جو غزہ پٹی اور دریائے اردن کے مغربی کنارے میں برسراقتدار ہیں، ایک سمجھوتے پر دستخط کر کے اپنے اختلافات کو ختم کر دیا اور ایک آزاد فلسطینی مملکت کے قیام کے لیے باضابطہ طور پر متحد ہو گئے۔ بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا فلسطینی گروہوں کا اگلا اقدام ہے۔ اسی سلسلے میں فلسطینی انتظامیہ کے حکام نے وسیع پیمانے پر سفارتی کوششیں کیں اور متعدد سفر کر کے دنیا کے کئي ممالک کے سربراہوں سے ملاقات کی تاکہ اس سلسلے میں ان کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ مغربی ممالک میں اس سلسلے میں پایا جانے والا اختلاف فلسطینیوں کے لیے ایک موقع شمار ہوتا ہے۔ یورپ میں برطانیہ نے یکطرفہ اعلان کر کے آزاد فلسطینی مملکت کے قیام کی مخالفت کی ہے۔ لیکن اس کے مقابل فرانس نے فلسطینی مملکت کے قیام کی حمایت کی ہے۔ اس کے علاوہ روس نے امریکہ کے مقابلے میں فلسطیینوں کے موقف کی حمایت کی ہے۔ فلسطینی گروہوں کو امید ہے کہ یہ حالات فلسطین کے نام سے ایک ملک کے قیام کا راستہ ہموار کر دیں گے۔ لیکن اس راستے میں موجود بعض رکاوٹوں کے باعث اس تجویز کی کامیابی کے سلسلے میں کوئی واضح پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی۔ ان میں سے ایک رکاوٹ یہ ہے کہ اسرائیل کی کالونیاں بنانے کی پالیسی نے فلسطینیوں کی مقبوضہ سرزمین کو ایسے پراکندہ جزیروں میں تبدیل کر دیا ہے کہ جن کا آپس میں کوئي رابطہ نہیں ہے۔ ایسے حالات میں جزیروں کی مانند سرزمین پر ایک ملک کے نام کا اطلاق کرنا قرین قیاس نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ایک آزاد فلسطینی مملکت کا قیام صرف جنرل اسمبلی کی منظوری سے عمل میں نہیں آئے گا۔ اگر اس تجویز کی جنرل اسمبلی منظوری دے بھی دیتی ہے تو اس کے بعد سلامتی کونسل سے اس کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے کہ جہاں اسرائیل کے حامیوں کو ویٹو کا حق حاصل ہے۔ ان حالات میں ایک آزاد فلسطینی مملکت کے قیام کے سلسلے میں روسی حکام کا مثبت موقف فلسطینی مملکت کے قیام کے سلسلے میں فلسطینیوں کے لیے بہتر موقع اور چانس کے مترادف نہیں ہے۔...............
/169