ابنا: سیکورٹی فورسز اور قانون پر عمل داری کے ذمہ داران کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے یہ قتل عام صوبائی حکومتوں کی سرپرستی میں ہو رہا ہےاور ستم ظریفی یہ ہے کہ انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں خاموش تمائی کا کردار ادا کر ہی ہیں، یہ صورت حال ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے اگر حالات کو کنٹرول کرنے پر توجہ نہ دی گئی تو شیعیان حیدر کرار احتجاج کا راستہ اپنانے پر مجبور ہو جائیں گے انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے ضلعی میڈیا انچارج شفقت کاظمی بھی موجود تھے۔ ایم ڈبلیو ایم اور آئی ایس او کے راہنمائوں نے کہا کہ کوئٹہ میں چوبیس گھنٹوں کے دوران یکے بعد دیگرے ہوے والی دہشت گردی کی دو وارداتوں میں اٹھارہ افراد کی شہادت حکومت بلوچستان کے لیے لمحہ فکریہ ہے ، یہ سلسلہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے اور آج تک اسے روکنے پر توجہ نہیں دی گئی ، انہوں نے کہا کہ ایک جانب تو ہماری آزاد عدلیہ بے گناہ افراد کے قاتل کی رہائی کے احکامات جاری کرتی ہے اور دوسری جانب ٹل پاراچنار روڈ کی گزشتہ پانچ سالوں سے بندش اور دہشت گردوں کی جانب سے بے گناہ افراد کے قتل عام اور ان کے مال و متاع کی لوٹ مار کا کوئی سویو موٹو ایکشن نہیں لیا جاتا، انہوں نے محصورین پاراچنار سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ٹلپاراچنار رواد کو فوری طور پر دہشت گردوں کر تسلط سے واگذار کرایا جائے اور اس اہم ترین شاہراہ پر سفر کو محفوظ بنایا جائے ۔............
/169