ابنا: ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق رامین مہمان پرست نے آج تہران میں ملکی اور غیرملکی نامہ نگاروں سے بات چیت میں ایران کے شمال مغربی علاقے میں دہشت گرد گروہ پژاک کی سرگرمیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور ان کے لیے پرامن ماحول قائم کرنا انسانی معاشرے کے لیے مفید نہیں ہے۔مہمان پرست نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ دہشت گرد گروہ پژاک نے واضح طور پر اپنے دہشت گردانہ اقدامات کا اعتراف کیا ہے ، کہا کہ عراق اور جرمنی کی حکومتوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں خصوصا اس لیے کہ دہشت گرد گروہ پژاک کا سرغنہ جرمنی میں آزادی کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کے اندر اس دہشت گرد گروہ کے عناصر کی کارروائیوں کے واضح اعتراف کے پیش نظر ہم جرمنی اور عراق کے حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان دہشت گرد گروہوں کے افراد کو اپنے ملک سے نکالنے کے لیے اقدام کریں۔ رامین مہمان پرست نے اسی طرح بوشہر ایٹمی بجلی گھر کے کام کے آغاز کے مراحل کے بارے میں کہا کہ اس بجلی گھر کی تعمیر کے مراحل مکمل ہو چکے ہیں اور اس وقت بجلی گھر کو ملکی ٹرانسمیشن لائن کے ساتھ ملانے کے ٹیسٹ کے مراحل پر کام جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور روس کے حکام اس کے باضابطہ افتتاح اور کام شروع کرنے کی جشن کی تاریخ طے کرنے کے لیے صلاح و مشورہ کر رہے ہیں۔ ..............
/169