24 جولائی 2011 - 19:30

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی کو فون کیا اور پاراچنار کی جانب امن کاروان کو مؤخر کرنے کی اپیل کی۔

ابنا: علامہ محمد امین شہیدی نے دو ٹوک انداز میں وزیر داخلہ کو واضح کیا کہ کاروان امن کا فیصلہ اُن کا ذاتی نہیں بلکہ پوری لیڈرشپ کا ہے، لٰہذا وہ کوئی ایسی کمٹمنٹ نہیں کر سکتے جو لیڈر شپ کے علم میں نہ ہو۔
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی کو فون کیا اور پاراچنار کی جانب امن کاروان کو مؤخر کرنے کی اپیل کی۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ امن کاروان کو صرف دو روز کیلئے مؤخر کیا جائے، جس کے بعد وہ کاروان کو فول پروف سکیورٹی دیں گے، جس پر علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ وزیر داخلہ صاحب آپ کا کوئی وعدہ ابتک وفا نہیں ہوا، اور نہ آپ کو اپنی باتیں یاد رہتی ہیں، آپ وقتی طور پر بات تو کر دیتے ہیں، لیکن اُن پر عملدرآمد نہیں کرا پاتے، اس پہلے بھی کئی وعدے ہو چکے ہیں، جو اب بھی ایفا عہد کے منتظر ہیں۔
علامہ محمد شہیدی نے دو ٹوک انداز میں وزیر داخلہ کو واضح کیا کہ کاروان امن کا فیصلہ اُن کا ذاتی نہیں بلکہ پوری لیڈرشپ کا ہے، لٰہذا وہ کوئی ایسی کمٹمنٹ نہیں کر سکتے، جو لیڈر شپ کے علم میں نہ ہو، انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وہ بات کریں گے، پھر جو فیصلہ ہو گا اس پر عمل کیا جائے گا، علامہ محمد امین شہیدی کی اس ٹیلی فونک گفتگو کے وقت آئی جی اسلام آباد بن یامین، ایس پی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربرہان بھی موجود تھے۔ رحمان ملک کو اس جواب نے لاجواب کر دیا اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ ایم ڈبلیو ایم کی لیڈر شپ جو بھی فیصلہ کرے، اس سے متعلق آگاہ کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110